بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سعودی عرب اور امارات پاکستان میں 25، 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے: نگراں وزیراعظم

اسلام آباد: نگراں وزیراعطم انوار الحق کاکڑ نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اگلے تین برسوں کے دوران پاکستان میں 25 پچیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کریں گے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان میں یہ سرمایہ کاری پراجیکٹس کی مد میں کریں گے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یہ سرمایہ کاری سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے زیر سایہ پراجیکٹس پر کریں گے۔

نگران وزیراعظم نے کہاکہ عام انتخابات جلدازجلدکرانے کےلئے ہرممکن تعاون کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لئے حل نکال رہے ہیں، گردشی قرضہ، چوری اور لائن لاسز بڑے چیلنجزہیں،بجلی اور ٹیکس کے شعبوںمیں اصلاحات بہت ضروری ہیں،دویازائدبجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاک فوج کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ فوج کے ساتھ ملک کر معاشی بحالی کے لئے کام کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام نے سی پیک منصوبوں کا خیرمقدم کیا، ریکوڈک منصوبہ جلدشروع ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ نومئی کو فوجی تنصیاب پر حملہ سماجی عدم تواز ن پیدا کرنے کی کوشش تھی ایسے رویے سے قانون کے مطابق نمٹنے کی حمایت کرتاہوں۔

 

واضح رہے سابق وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت میں جون میں اس کونسل کو بنایا گیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا اور ملک کی معیشت کو سنبھالنا تھا۔

اتوار کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کراچی میں کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ نئی بنائی گئی کونسل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت سے 100 ارب ڈالر تک کا سرمایہ لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پیر کو بین الاقوامی اداروں کے صحافیوں سے ملاقات کے دوران نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے آرمی چیف کی جانب سے دیے گئے بیان کی تصدیق کی۔
ملاقات کے دوران نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے یہ سرمایہ کاری دو، تین برسوں میں کی جائے گی جس کا مرکز کان کُنی اور معدنیات سیمت دیگر سیکٹرز ہوں گے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم کے بیان پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
پچھلے مہینے سعودی عرب کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں کان کُنی کے سیکٹر میں سرمایہ داری کے مواقع ڈھونڈنا تھا۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً چھ کھرب ڈالرز کے معدنی ذخائر موجود ہیں۔
سعودی وفد نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے معدنی سَمِٹ میں بھی شرکت کی تھی۔