بھارت میں جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران نئی دلی میں شدید بارش کے دوران کنونشن سینٹر میں بارش کا پانی جمع ہوگیا۔
خیال رہے کہ جی 20 کا سربراہی اجلاس 9 ستمبر کو شروع ہوا تھا اور 10 ستمبر کو اختتام پذیر ہوگا۔
اس اجلاس کے لیے بنائے گئے کنونشن سینٹر میں بارش کا بانی جمع ہوگیا۔
بھارتی دارالحکومت میں 2 روز تک شدید بارش ہوئی ہے جس کے باعث سربراہی اجلاس کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ کنونشن سینٹر میں پانی جمع ہوگیا۔
G20 venue ‘Bharat Mandapam’ which was prepared with ₹2700 cr, is waterlogged just after a rain of few minutes in Delhi.
It exposes the development of the National capital under the Modi-Kejriwal regime. pic.twitter.com/4ZOV0sl62v
— Shantanu (@shaandelhite) September 10, 2023
خیال رہے کہ مودی حکومت نےجی 20 اجلاس کے لیےخصوصی طور پر بین الاقوامی کنونشن سینٹر تعمیر کیا تھا۔
اس سینٹر کی تعمیر پر 2 ہزار 700 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں بارش کا پانی کھڑا ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر وائرل ہوگئی ہے۔
کنونشن سینٹر میں پانی کھڑا ہونے پر حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے مودی حکومت پر تنقید کی ہے۔
کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کروڑوں روپوں سے بنایا گیا کنونشن سینٹر تیراکی کر رہا ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وائرل ویڈیو گمراہ کن ہے اور معاملے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔
A video claims that there is waterlogging at venue of #G20Summit #PIBFactCheck:
✔️This claim is exaggerated and misleading
✔️Minor water logging in open area was swiftly cleared as pumps were pressed into action after overnight rains
✔️No water logging at venue presently pic.twitter.com/JiWzWx1riZ
— PIB Fact Check (@PIBFactCheck) September 10, 2023
پریس انفارمیشن بیوریو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کنونشن سینٹر کے کھلے حصے میں تھوڑا پانی جمع ہوا تھا جسے فوری طور پر صاف کر دیا گیا تھا۔









