بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان کو سپانسر کیا گیا تھا اور تاثردیاگیا وہ عوام کا نجات دہندہ ہے مگر تجربہ ناکام رہا،خواجہ آصف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ 2018 کے انتخابات شفاف نہیں تھے، عمران خان کو سپانسر کیا گیا تھا اور تاثردیاگیا وہ عوام کا نجات دہندہ ہے، سیاستدانوں کو بدنام کر کے عمران خان کو لایاگیا تھا مگر یہ تجربہ ناکام ثابت ہوا،جن سیاسی جماعتوں کو بدنام کیا گیا اب ان کی مخلوط حکومت ہے، اب ہماری مرضی ہے کہ کب انتخابات کراتے ہیں، نوازشریف ضرورواپس آئیں گے، ان کی سزاکے خلا ف قانونی راستہ موجو د ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ سیاستدانوں کو بدنام کیا گیا اس کے بعد نئی پارٹی بنائی گئی ،چاہے ایوب خان ہوں ،ضیاالحق ہوں یا مشرف سب نے ایساکیا ،پہلی بار پچاس کی دہائی میں سیاستدانوں کو بدنام کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ 2018کے انتخابات شفاف نہیں تھے ،ہمارے خان کو سپانسرکیا گیا اور تاثردیاگیا کہ وہ عوام کے نجات دہندہ ہیں یہ ایک نیا تجربہ تھا جوسارا کا سارا منہ کے بل گیا جن جماعتوں کو بدنام کیا گیا تھا وہ دوبارہ اقتدارمیں آگئیں اب نئے الیکشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے ،ہم انتخابات کیوں کرائیں ،عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ مسجدنبوی میں جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا ،نعرے لگانے والوں کی اکثریت لندن سے آنے والوں کی تھی،شیخ رشیدنے پہلے ہی بتادیا تھا کہ ان کے ساتھ یہ ہوگا،سعودی حکومت واقعہ پر کارروائی کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران کسی آفیشل میٹنگ میں حسین نواز نہیں بیٹھے ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں دھڑے بندی شدید ہوگئی اسے کم کرنے کی ضرورت ہے، عمران خان کی کوشش ہےکہ دھڑے بندی مزید شدید ہو،عمران خان آج بھی پچ پر لیٹے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان ایک خاتون (فرح گوگی) کی صفائیاں دے رہے جیسے اس کے مشیر ہوں۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف ضرورواپس آئیں گے کب آئیں گے ،یہ نہیں معلوم، ان کی سزاکے خلا ف قانونی راستہ موجود ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اب ہماری مرضی ہے کہ کب انتخابات کراتے ہیں مخلوط حکومت کو موقع ملنا چاہیے ،تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ الیکشن صاف و شفاف ہوں۔

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میں انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو تصادم سے گریز کرنا چاہیے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کے حق میں نہیں ہوں۔