بیجنگ: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے جدت پر مبنی دیرپا ترقی فراہم کی، منصوبے نے لوگوں کے محصولات ادا کرنے کی صلاحیت، حکومتوں کی قرض ادائیگی کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔
چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سی پیک بی آر آئی منصوبے کا شاہکار ہے، منصوبے نے دونوں قوموں کے مشترکہ مستقبل کے لئے بنیاد فراہم کی، یہ تمام عناصر صدر شی جن پنگ کے وژن کا شاخسانہ ہیں۔
وزیر اعظم نے منصوبے میں شامل ممالک کے قرض کے جال میں جکڑے جانے کے تاثر کو مسترد کر دیا، انہوں نے کہا کہ منصوبہ ممالک کے لئے دیرپا اور مکمل ترقی کے حصول کے لے بنیادی ذریعہ ثابت ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان میں 25.4 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، منصوبے سے پاکستان میں اب تک 2 لاکھ 36 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، منصوبے سے پاکستانی معاشرے کے ہر طبقے کو فائدہ ہوا۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گوادر بندرگاہ نے نئے معاشی مواقع پیدا کئے ہیں، بندرگاہ مکمل طور پر فعال، افغانستان سمیت تمام ممالک میں کارگو جہاز روانہ ہوتے ہیں، چینی حکام کی فول پروف سکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان چینی حکام و اداروں کی حفاظت کے لئے پُرعزم اور مکمل طور پر تیار ہے، چین کے ساتھ تعلقات خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے دور حکومت میں 800 ملین لوگوں کو خط غربت سے نکالا گیا، انہوں نے کہا کہ ہم چین سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
دریں اثنا نگران وزیر اعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں شرکت کی۔
وزیرِ اعظم صدر شی جن پنگ کی جانب سے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شریک عالمی رہنماؤں کیلئے دیئے گئے عشائیے میں شرکت کیلئے گریٹ ہال آف پیپلز پہنچے جہاں چینی صدر شی جن پنگ (Xi Jinping) اور خاتون اول پانگ لی-یوان (Peng Liyuan) نے وزیرِ اعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔ نگران وفاقی کابینہ کے وزراء نے بھی وزیر اعظم کے ساتھ عشائیے میں شرکت کی۔
گریٹ ہال آف پیپلز میں منعقدہ اس عشائیے میں روس، کینیا، ایتھوپیا، منگولیا، ہنگری، سری لنکا، قزاقستان، ازبکستان، پاپؤا نیو گِنی، موزامبیک چلی اور دیگر عالمی رہنماؤں نے شرکت کی. نگران وزیرِ اعظم نے عشائیے میں شریک دیگر عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں۔









