فاسٹ بولر محمد عامر بابر اعظم کو’ بوبی دی کنگ‘ کہنے پر بھڑک اٹھے اور مداح کو دوران شو سنادیں۔
حال ہی میں محمد عامر جیو نیوز کے پروگرام ’ہارنا منع ہے‘ میں شریک ہوئے جس دوران ایک مداح نے محمد عامر سے سوال کیا کہ ’اگر بابر کی کراچی کنگز کی ٹیم میں واپسی ہوجائے یا پھر آپ ٹیم میں چلے جائیں تو آپ بابر کو بابر اعظم کہہ کر پکاریں گے یا بوبی دی کنگ؟‘
بابر اعظم سے اب باہر نکل آؤ، پاکستان ٹیم صرف بابر کی ٹیم نہیں ہے، محمد عامر pic.twitter.com/ae6rZXTnUi
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) November 13, 2023
مداح کے سوال پر محمد عامر نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرامخلصانہ مشورہ ہے کہ بابر اعظم سے باہر نکل آؤ کیوں کہ پاکستان کی ٹیم بابر کی ٹیم نہیں ہے ٹیم میں بابر کے علاوہ مزید 15 لڑکے اور بھی ہیں جنہوں نے اکیلے ہی پاکستان کو فتح دلوائی ہے، یہ سچ ہے کہ بابر ایک اچھا کرکٹر ہے اس کی اپنی عزت نفس ہے ، بطور مسلمان اور بطور کرکٹر ہمارا فرض ہے کہ ہم بابر سے اچھے سے ملیں لیکن بس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں، بابر کو کنگ کہنا یہ سب گراؤنڈ میں اچھا لگتا ہے، اس سے باہر ایسے لفظ اچھے نہیں لگتے‘۔
بابر کی جگہ کپتان کس کو دیکھتے ہیں کہ سوال پر محمد عامر نے کہا کہ’ بابر کی جگہ ٹی ٹوئنٹی کا کپتان عماد وسیم کو دیکھتا ہوں، اگر بالکل ہی مخلتف کرنا ہو یعنی نوجوان کپتان ہو تو صائم ایوب کو ون ڈے کیلئے اور شان مسعود ایک اچھا انتخاب ہیں، ٹیسٹ سیریز کیلئے سرفراز احمد کو دیکھتا ہوں ان کے ساتھ کسی کو نائب کپتان لگایا جاسکتا ہے‘۔
کوئی یہ نہ کہے کہ بابر کے ساتھ زبردستی زیادتی ہورہی ہے، محمد عامر pic.twitter.com/96aQ8k8zDn
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) November 13, 2023
بابر کو کپتانی سے ہٹانے اور ان پر کی جانے والی تنقید کے سوال پر محمد عامر نے کہا کہ ’بابر کے خلاف کوئی نہیں ہے، ہم سب کرکٹ کو ٹھیک کرنے کی باتیں کررہے ہیں لیکن یہ چیز ہمیں ماننی ہوگی کہ بابر کو 4 سال کپتانی دی گئی اب ان کے خلاف اگر کوئی بات ہورہی ہے تو یہ کہا جائے کہ وہ زبردستی کی جارہی ہے، اب ٹیم کی واپسی کے بعد بابر سے بورڈ کو شکست کی وجہ پوچھنی چاہیے کیوں کہ 2019 کے بعد بھی سابق کپتان محمد سرفراز کو اور مکی آرتھر کو بلایا گیا تھا جس میں انہیں بتایا گیا کہ آپ کو موقع دیا گیا لیکن آپ نہیں کرپائے اس لیئے اب شکریہ‘۔









