اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین بریگیڈئیر(ر) محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گندم کی پیداوار بڑھانے اور اسکی بلیک مارکیٹنگ کو ختم کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درامد کیا جائے
تاکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو منافع خوروں سے نجات اور کچھ ریلیف مل سکے۔محمد اسلم خان نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ منافع خور گندم اور آٹے کی طلب اور رسد میں فرق کو مصنوعی طور پر پڑھا رہے ہیں جس سے ملک بھر میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں جو نئی حکومت کی ساکھ کے لئے خطرہ بن رہی ہیں۔پانی کی کمی اور یوریا کی بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے گندم کی ملکی پیداوار میں زبردست کمی کے باوجود گزشتہ پانچ ماہ سے گندم درامد کرنے کے بجائے زبانی جمع خرچ کو ترجیح دی گئی جبکہ اب عالمی منڈی میں گندم کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں

جس کی سب سے بڑی وجہ روس اور یوکرین کے مابین جنگ ہے۔ اسلم خان نے مزید کہا کہ گندم کی پیداوار ہدف سے تیس لاکھ ٹن کم رہے گی اس لئے اگر اسی مقدار میں گندم کو جلد از جلد درامد نہ کیا گیا تومنافع خوروں کا حوصلہ بڑھے گا اورمقامی منڈیوں میں اسکی قیمت میں اضافہ ہو گا جس سے عوام کی پریشانی بڑھے گی۔ملک میں گندم اور آٹے کے بحران کی وجوہات میں اسکی ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ بھی شامل ہے جس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک طرف عالمی سطح پر گندم کی سپلائی میں کمی آئی ہے اور دوسری طرف حکومت کے پاس تیس لاکھ ٹن گندم درامد کرنے کا زرمبادلہ موجود نہیں ہے
جبکہ گندم کے حصول کا سب سے سستا زریعہ بھارت ہے جسے سیاسی معاملات کی وجہ سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں آٹے کی قیمت میں گیارہ روپے فی کلو اضافہ ہو چکا ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے جو ناقابل قبول ہے اور اگر فوری طور پر اصلاح احوال کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو گندم اور آٹے قیمت مزید بڑھ جائے گی جس سے فوڈ سیکورٹی کی صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔چند سال پہلے تک پاکستان گندم کی پیداوار میں خود کفیل تھا مگر معیشت کے دیگر اہم شعبوں کی طرح اس شعبہ کو بھی مفاد پرست عناصر نے تباہ کر دیا
اور اب بھاری مقدار میں گندم درامد کرنا مجبوری بن چکی ہے۔ پاکستان کو زرعی ملک کہا جاتا ہے مگر سالانہ آٹھ ارب ڈالر کی زرعی اجناس بھی درامد کی جاتی ہیں جو حیران کن اور خزانے کے لئے ناقابل برداشت ہے۔








