پاکستان کے ایک آزاد پاور پروڈیوسر (IPP) ایس جی پاور لمیٹڈ نے بجلی کی پیداوار کا شعبہ چھوڑ کر باقاعدہ طور پر ہیلتھ کیئر (شعبہ صحت) کا رخ کر لیا ہے اور ایس ای سی پی نے فارماسیوٹیکل الائیڈ کو کمپنی کے نئے بنیادی کاروبار کے طور پر رجسٹر کر لیا ہے۔
لسٹڈ کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔کاروبار میں اس تبدیلی کے بعد اب کمپنی کے لیے میڈیکل ڈیوائسز، اسپتالوں کی سپلائیز اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کی تیاری اور تجارت کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 13 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے غیر معمولی جنرل اجلاس (ای او جی ایم) میں منظور کی جانے والی خصوصی قرارداد کے ذریعے ممبران کی منظوری اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے پاس متعلقہ قانونی دستاویزات کی رجسٹریشن کے بعد کمپنی کا بنیادی کاروبار باقاعدہ طور پر پاور جنریشن سے تبدیل کرکے فارماسیوٹیکل الائیڈ (ہیلتھ کیئر سیکٹر) کر دیا گیا ہے۔

ترمیم شدہ بنیادی کاروبار کے تحت اب کمپنی طبی آلات، میڈیکل ڈیوائسز، اسپتال کی سپلائیز اور متعلقہ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس کی درآمد، برآمد، تیاری، تقسیم، مارکیٹنگ، فروخت، کرائے پر دینے، تنصیب، دیکھ بھال اور فروخت کے بعد کی خدمات (آفٹر سیلز سروسنگ) فراہم کرنے کی مجاز ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی فارماسیوٹیکل، ادویات اور اس سے منسلک مصنوعات تیار اور فروخت بھی کر سکے گی۔
مزیدپڑھیں:نورا فتیحی کا فٹبال شائقین کےلیے نیا گانا ’چیمپئنز‘ ریلیز کردیا گیا
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ تبدیلی کمپنی کی اسٹریٹجک تبدیلی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کے ہیلتھ کیئر اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ایس جی پاور لمیٹڈ 10 فروری 1994 کو کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت پاکستان میں رجسٹر ہوئی تھی۔ اس کا بنیادی کام بجلی پیدا کرنا اور اپنی ہی ایک اور ایسوسی ایٹڈ کمپنی ایس جی الائیڈ بزنسز لمیٹڈ کو بجلی فراہم کرنا تھا۔ ایس جی پاور کو ایک انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) کے طور پر درجہ بندی حاصل ہے۔مئی 2026 میں ایس جی پاور لمیٹڈ نے رائٹ شیئرز کے اجراء کے ذریعے تقریباً 53.5 کروڑ (535 ملین) روپے اکٹھے کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔اس فنڈ ریزنگ کا بنیادی مقصد ہیلتھ کیئر سیکٹر اور اس سے منسلک کاروبار میں سرمایہ کاری کرنا تھا، جس کا محور کمپنی کے آپریشنز کو وسعت دینا، مضبوط بنانا اور مستقبل کے ترقیاتی اقدامات کو سپورٹ کرنا تھا۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے اس کی آمدنی کے ذرائع کو وسعت اور استحکام ملے گا۔








