بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہراسگی کے واقعات روکنے کیلئے نیب قانون میں ترمیم پر غور

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اطلاعات ہیں کہ غیر ملکی دارالحکومتوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے سرمایہ کاروں کے نیب کی وجہ سے لاحق تحفظات سے حکومتِ پاکستان کو آگاہ کیے جانے کے بعد اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں نیب قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو عرب اسلامی ممالک کے کچھ بااثر دارالحکومتوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کاروباری افراد بشمول غیر ملکی سرمایہ کاروں کو نیب کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعات کو دیکھتے ہوئے غیر ملکی کاروباری افراد پاکستان میں کیسے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

اِن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک عرب حکمران نے نیب اور اس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا معاملہ شہباز شریف کی موجودہ حکومت کے روبرو پیش کیا ہے۔

اس سے قبل بھی جب ایک عرب ملک کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی گئی تھی تو اس ملک کے عرب حکمران نے بھی حکومتِ پاکستان سے نیب کی زیادتیوں کی شکایت کی تھی۔

اندرونی سطح پر دیکھیں تو وزیراعظم شہباز شریف نے سویلین بیوروکریسی کے ساتھ جتنی بھی ملاقاتیں کی ہیں اُن میں انہیں بتایا گیا ہے کہ نیب کی موجودگی میں بیوروکریسی کام نہیں کر سکتی۔

بیوروکریٹس کے ساتھ ملاقات کے بعد اپنی ٹوئیٹ میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ مل کر کام کرنے سے ہی اہداف حاصل ہوتے ہیں، سرکاری ملازمین کی جانب سے موثر اور فعال رویہ اختیار کیے بغیر خدمات کی فراہمی ممکن نہیں۔

میری آج کی ملاقات میں، میں نے اُن سے کہا عوام کی خدمت کیلئے وضع کردہ اقدار کے تحت کام کریں اور فرض سے آگے بڑھ کر کام کریں۔ ہم بھی ان کے نیب کے حوالے سے درپیش تحفظات دور کریں گے۔

شہباز شریف خود بھی نیب کے متاثرین میں شامل ہیں، ادارے نے گزشتہ حکومت میں شہباز شریف کیخلاف مقدمات قائم کیے تھے اور انہیں دو مرتب ہگرفتار کرکے مہینوں تک جیل میں ڈال دیا تھا۔ نیب کے ایک اور متاثرہ شخص اور وفاقی وزیر برائے پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے دی نیوز کو بتایا کہ ان کی بیوروکریسی کے ساتھ تقریباً چار ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ہر ملاقات میں افسران کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازی اور کارکردگی دکھانے کے معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ نیب ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی میڈیا کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت میں نیب کے کام کرنے کے انداز پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے نہ صرف بشریٰ بی بی کی دوست فرح خان کیخلاف انکوائری شروع کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا بلکہ اعتراف بھی کیا کہ اُن کی حکومت میں وہ بیرون ملک سے ماہرین لانا چاہتے تھے لیکن وہ بھی نیب کی وجہ سے حکومت کا حصہ بننے سے کتراتے تھے۔

اپنی حکومت میں عمران خان نے کئی مرتبہ بیوروکریسی اور کاروباری افراد کے نیب کے حوالے سے تحفظات پر بات کی تھی۔

انہوں نے نیب قانون میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کچھ تبدیلیاں کی تھیں لیکن نیب کیسز اور اُس وقت کے اپوزیشن رہنمائوں کی کئی گرفتاریوں کی وجہ سے عمران خان اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے نیب میں اصلاحات نہ لا سکے۔

اگرچہ نیب کا اصرار ہے کہ اس نے فرح خان کیخلاف اس لیے انکوائری شروع کی ہے کیونکہ اُن کے شوہر 1990ء کی دہائی میں بلدیاتی حکومت کا حصہ تھے۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ فرح خان نے مذکورہ شخص سے اُس وقت شادی کی جب وہ سرکاری عہدہ چھوڑ چکے تھے۔

موجودہ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف حکومت کا فرح خان انکوائری سے کوئی تعلق نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیب نے یہ کام اپنے طور پر خود کیا ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نیب قانون میں ترمیم پر غور کر رہی ہے تاکہ بیورو کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور بیوروکریسی اور کاروباری افراد کو ہراساں ہونے سے بچایا جا سکے۔ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نیب قانون میں جن ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے ان میں بنیادی توجہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں اور مشاہدات پر مرکوز رکھی گئی ہے۔

موجودہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں میں سے کچھ چاہتی تھیں کہ نیب کو ختم کر دیا جائے کیونکہ اس نے ملک کی خدمت کی بجائے نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن اب حکومت صرف نیب قانون میں ترمیم پر غور کر رہی ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ نیب کو ختم کر دیا تو عمران خان کی پی ٹی آئی کی طرف سے رد عمل آ سکتا ہے۔