ملک بھرمیں انتخابات 2024 کے لیے پولنگ کا نصف سے زائد وقت گزرچکا ہے۔ اس دوران ٹرن آؤٹ کم رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری سمیت سیاسی رہنماؤں نے موبائل فون بندش کو ٹرن آؤٹ میں کمی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
تاہم مشکلات کا شکار پاکستان تحریک انصاف نے کم ازکم ایک حلقے کے حوالے بھاری ٹرن آؤٹ کا دعویٰ کیا ہے۔ پی ٹی آئی جو تکنیکی طور پر انتخابات سے باہر ہو چکی ہے کی جانب سے ووٹرز کو گھروں سے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کا پیغام دیا گیا۔
روزنامہ ڈان پشاور کے ایڈیٹر اسماعیل خان کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے تک صوبے بھر میں رائے دہندگان کا ٹرن آؤٹ اوسطا 9 فیصد تھا۔
تاہم اُن کا ماننا ہے کہ دوپہر کے کھانے کے بعد رائے دہندگان کی تعداد میں تیزی آ سکتی ہے۔
سینیئر صحافی حامد میر نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ، ’ملک کے مختلف حصوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹر بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن پولنگ کا عمل جان بوجھ کر سست رکھا گیا ہے۔‘
حامد میر نے دعویٰ کیا کہ جہاں صبح سے سیکڑوں ووٹر موجود ہیں وہاں پولنگ اتنی سست ہے کہ پہلے 4 گھنٹے میں100 سے بھی کم ووٹ ڈالے گئے، اس سستی کا انٹرنیٹ کی معطلی سے کوئی تعلق نہیں۔
سینیئر صحافی طلعت حسین نے بھی اپنی پوسٹ میں کہا کہ اب تک ملک بھر میں ٹرن آؤٹ پہلے 4 گھنٹوں کے رجحان سے کم ہے۔ شہری مراکز عام اوسط سے 10 فیصد کم رپورٹ کر رہے ہیں۔
طلعت حسین کے مطابق ٹرن آؤٹ پولنگ ٹائم کے دوسرے حصے میں بڑھ سکتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ 1997 کی عکاسی کر سکتا ہے۔
آج نیوز کو مختلف علاقوں سے کم ٹرن آؤٹ کی شکایات ملی ہیں۔
جیکب آباد میں انٹرنیٹ سروس معطل رہنے کے باعث ووٹرز کا ٹرن آؤٹ انتہائی کم نظرآرہا ہے۔صوبائی حلقہ پی ایس 1 میں خواتین کے ہولنگ اسٹیشن پر دوپہر 12 بجے تک صرف 16ووٹ کاسٹ ہوسکے۔
حیدرآباد میں بھی ووٹنگ کا عمل جاری ہے تاہم اب تک ووٹنگ ٹرن آؤٹ انتہائی کم ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹرن آؤٹ میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔
سکھر میں بھی صبح کے اوقات میں ٹرن آؤٹ سست روی کا شکاررہا۔ ووٹرز کا ماننا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث رابطوں کا فقدان بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔
خیبر میں پولنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے تاہم باڑہ میں ٹرن آؤٹ بہت کم ہے۔
ادھر ہری پورمیں حلقہ پی کے48 میں ابتدائی گھنٹوں کے دوران خواتین ووٹرکاووٹ پول نہیں ہوسکا حالانکہ خواتین پولنگ اسٹیشن پرعملہ موجود تھا۔ اس سے قبل کے عام انتخابات میں بھی کسی خاتون ووٹرنے ووٹ کاسٹ نہیں کیا تھا۔
ٹرن آؤٹ کی تاریخ
پاکستان کے گذشتہ دو انتخابات میں ٹرن آؤت 50 فیصد سے زائد رہا ہے جب کہ کئی انتخابات میں یہ 40 فیصد کے لگ بھگ رہا۔ البتہ ملکی تاریخ کے دو اہم ترین انتخابات 1970 اور 1975 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 61 فیصد رہا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد ملک تقسیم ہوگیا تھا جب کہ 1975 کے انتخابات ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کا اہم موڑ تھے۔
1988 میں جب بینظیر بھٹو کی واپسی کے ساتھ انتخابات ہوئے اور جمہوریت بحال ہوئی تو ٹرن آؤٹ 44 فیصد تھا۔
بینظیر کی رخصتی کے بعد 1990 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 46 فیصد رہا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے۔
1993 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 39 فیصد تھا، بینظیر بھٹو ایک بار پھر وزیراعظم بنیں۔
1997 میں نواز شریف کو دو تہائی اکثریت دلانے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 35 فیصد تھا۔
2002 میں پرویز مشرف کے نیچے جب جمہوریت کی بحالی ہوئی تو ٹرن آؤٹ 40 فیصد رہا۔
یہ شرح 2008 کے الیکشن میں بہتر ہو کر 44 فیصد ہوگئی۔
2013 میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو ٹرن آؤٹ 53 فیصد تھا جو 1990 کے بعد سب سے بڑا ٹرن آؤٹ ہے۔
عمران خان کے وزیراعظم بنتے وقت 2018 کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 51 فیصد تھا۔









