بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قائمہ کمیٹی کا ریلوے پولیس شہداء کے ویلفیئر پمپ تنازع کا سخت نوٹس: وزارت سے ایک ماہ میں حل طلب

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے ریلوے پولیس کے شہداء اور دورانِ سروس جاں بحق اہلکاروں کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے پیشِ نظر لاہور میں قائم ویلفیئر پیٹرول پمپ اراضی تنازع کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ ریلوے کو ایک ماہ میں قابل عمل حل نکال کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین رمیش لعل کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی کے 18ویں اجلاس میں چیئرمین ریلوے سید مظہر علی شاہ، آئی جی ریلوے پولیس محمد وصال فخر سلطان راجہ، ڈی آئی جی ریلوے سرفراز احمد فلکی، سی ای او ریلوے حفیظ اللہ، سیکرٹری ریلوے بورڈ راحت مرزا اور اراکین قومی اسمبلی ملک ابرار احمد، وسیم قادر، مہرین رزاق بھٹو، سیدہ آمنہ بتول اور احمد سلیم صدیقی شریک ہوئے۔

اجلاس میں آئی جی ریلوے پولیس نے انکشاف کیا کہ اس وقت دورانِ سروس انتقال کرنے والے 300 ملازمین و اہلکاروں کے خاندان پرائم منسٹر پیکیج کے منتظر ہیں، اگر پولیس اہلکاروں کو ریلوے کے عام ملازمین کی فہرست میں رکھا گیا تو موجودہ طریقہ کار کے تحت اگلے 15 سال تک بھی ان کی باری نہیں آئے گی۔ اس پر رکن قومی اسمبلی وسیم قادر نے تجویز دی کہ پولیس شہداء کو عام ملازمین سے الگ کر کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے طور پر ترجیحی پیکیج دیا جائے، جس کی ملک ابرار احمد نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ فرنٹ لائن پر قربانیاں دینے والوں کے پسماندگان کی داد رسی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

آئی جی ریلوے پولیس کے مطابق، پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرز پر ریلوے پولیس کے تمام رینک، سپاہی سے لے کر آئی جی پی تک ہر ماہ اپنی تنخواہوں سے ویلفیئر فنڈ میں باقاعدہ کٹوتی کرواتے ہیں۔ 2004 میں لاہور پولیس لائنز میں قائم کیا گیا پی ایس او پیٹرول پمپ خالصتاً فورس کے انہی ذاتی فنڈز سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں ریلوے کا ایک روپیہ بھی شامل نہیں تھا۔ اس ویلفیئر منصوبے کی آمدن سے شہداء کی بیواؤں کو 10 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ، شہید کے لواحقین کو 6 لاکھ اور دورانِ سروس وفات پر 2 لاکھ تک فوری ریلیف، بچیوں کے لیے 80 ہزار روپے جہیز گرانٹ اور یتیم بچوں کو نسٹ، لمز اور آغا خان یونیورسٹیوں تک کی مکمل تعلیمی فیسیں فراہم کی جا رہی ہیں، لہٰذا اگر یہ منصوبہ واپس لیا گیا تو فورس کا ویلفیئر نیٹ ورک بیٹھ جائے گا اور شہداء کے خاندان بے سہارا ہو جائیں گے۔

ڈی آئی جی ریلوے سرفراز احمد فلکی نے مؤقف اپنایا کہ پی اے سی کا اعتراض محض پروسیجرل ہے جسے دستاویزی ثبوتوں سے نمٹایا جا سکتا ہے، جس کے لیے 29 اگست 2026 کو باضابطہ نظرثانی درخواست بھیجی جا چکی ہے تاکہ اس منصوبے کا انتظام پولیس کے پاس ہی رہے۔ قائمہ کمیٹی نے شہداء کے خاندانوں کے حقوق کو مقدم رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزارتِ ریلوے سے ایک ماہ میں قابل عمل و مثبت حل طلب کر لیا۔