بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ کا کمشنر راولپنڈی کے خلاف از خود نوٹس نہ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ کا کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر ازخود نوٹس نہ لینے کا فیصلہ، فیصلہ چیف جسٹس کی دیگر ججز کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کمشنر راولپنڈی کے الزامات کے بعد چیف جسٹس چیمبر میں ججز کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، مشاورتی اجلاس میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ شریک تھے۔
اجلاس میں تمام ججز کی جانب سے کمشنر راولپنڈی کے الزامات کا جائزہ لینے اور ازخود نوٹس لینے یا نہ لینے کے فیصلے پر گفتگو ہوئی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر ازخود نوٹس نہ لینے کا فیصلہ کیا، فیصلہ چیف جسٹس کی دیگر ججز سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔
انتخابات سے متعلق مقدمہ 19 فروری کو پہلے ہی سماعت کیلئے مقرر ہے، پہلے سے مقرر کردہ مقدمہ میں ہی کمشنر راولپنڈی کے پہلو کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
قبل ازیںچیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بیان پر کہا ہے کہ الزامات تو کوئی کچھ بھی لگا سکتا ہے۔
کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہارنے والے امیدواروں کو جتوایا جائے اور ان اقدامات میں بقول ان کے چیف جسٹس بھی ملوث تھے۔
ادھر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الزامات لگانا حق ہے لیکن اس کے ساتھ ثبوت بھی پیش کرنا ہوتے ہیں۔ نہ کوئی ثبوت ہے نہ صداقت، ایسے تو کل کو چوری کا بھی الزام لگا دیں گے ۔
انہوں نے کہاکہ ‏الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، درخواستیں آتی رہتی ہیں اور ہم ان پرفیصلے بھی کرتے ہیں۔ الیکشن سے میرا کوئی تعلق نہیں، بے بنیاد الزامات لگا کر اداروں کو تباہ نہ کریں۔
انتخابات سے متعلق مقدمہ پر سماعت 19 فروری کو پہلے ہی مقرر ہے، پہلے سے مقرر کردہ مقدمہ میں ہی کمشنر راولپنڈی کے پہلو کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ ذرائع کا بتانا ہے کہ چیف جسٹس نے مشاورت کے بعد از خود نوٹس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔