بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پائیکو اسمبلی بتدریج مضبوطی اور پائیداری کی جانب گامزن ہے ،سپیکر قومی اسمبلی

باکو(مانیٹرنگ ڈیسک )سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں پارلیمانی اسمبلی برائے اقتصادی تعاون تنظیم پائیکو کی منعقدہ تیسری جنرل کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیکو کی پارلیمانی اسمبلی کی تیسری جنرل کانفرنس میں شرکت میرے لیے عزاز ہے، کانفرنس کے شاندار انتظامات پر اسپیکرغفاروا اور آذربائیجان کی حکومت کو خراج تحسین کرتا ہوں،پائیکو میں آپ کی دلچسپی اور اس کانفرنس کی میزبانی آپ کی پارلیمنٹ اور حکومت کی ای سی او ممالک کے ساتھ گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پائیکو کی بانی پارلیمنٹ کے نمائندے کے طور پر میرے لیے خوشی کا موقع ہے، پائیکو اسمبلی بتدریج مضبوطی اور پائیداری کی جانب گامزن ہے ،اسلام آباد میں 2013 میں قائم کی گئی پائیکو کو بھی ہم نے گزشتہ سال پاکستان میں بحال کیا، دس میں سے سات ممبران پارلیمنٹ نے پائیکو کے چارٹر پر دستخط کیے اور ان میں سے پانچ نے اس کی توثیق کی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بامعنی تعاون کے قیام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، پچھلے سال بھی ہم نے پائیکو کے قواعد کی منظوری دی تھی، مشترکہ معاشی خوشحالی کے نظریات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مضبوط پارلیمانی میکانزم بنانے کے مشترکہ خواب کی طرف ایک بڑا قدم ہے، پرانی کہاوت ہے آپ اپنے دوستوں کا انتخاب کر سکتے ہیں لیکن آپ کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رہنا ہوگا، صدیوں کی مشترکہ تاریخ، نسلی ثقافتی مماثلتوں اور لسانی روابط کے ساتھ، ہمارے معاشرے ایک دوسرے سے بہت گہرے ہیں، ہمارے عوام میں بہت کچھ مشترک ہے، یہ مشترک تاریخ، ثقافت ہی درحقیقت ہماری اصل طاقت ہے، باکو میں ملتان کاروان سرائے نامی جگہ کی موجودگی مجھے یہاں گھر کا احساس دلاتی ہے، ہرات، بخارا، شیراز، بداغشان اور سمرقند جیسے شہروں کے نام پاکستان کا ہر بچہ جانتا ہے، رومی، فردوسی اور نظامی میرے ملک میں اتنے ہی قابل احترام ہیں جتنے امیر خسرو اور علامہ اقبال آپ کے اپنے معاشروں میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدیوں سے ہمارے آباؤ اجداد نے ایک دوسرے کی سرزمین پر باباؤں، جنگجوؤں اور تاجروں کے طور پر سفر کیا ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ عقیدے، تجارت اور دوستی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، ہمارے ممالک کے پاس وسائل، ہنر اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے،ان تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ہم اپنے علاقائی چیلنجوں کے حل کے لیے باہر کی طرف دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 17 میں سے 3 ممالک جو دنیا کی توانائی کی دولت کے بڑے حصے کے مالک ہیں کا تعلق ائ سی او خطہ سے ھے، قدرتی وسائل کے اعتبار سے دنیا میں قازقستان 15 نمبر پر، ترکمانستان 12 نمبر پر اور ایران دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان اور ترکی گندم پیدا کرنے والے دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل ہیں، ازبکستان ہمارے ساتھ کپاس پیدا کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہے، ہمارے دس ممالک مل کر 500 ملین باشندوں کی مشترکہ منڈی بنا سکتے ہیں جو کل آبادی کا 10فیصد بنتا ہے، یہ 27 ممالک میں 478 ملین افراد کی کل یورپی یونین مارکیٹ کے حجم سے بھی کچھ زیادہ ہے،