بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بلوچستان میں پھر سیاسی ہلچل، وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائے جانے کا امکان

کوئٹہ ( مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل مچ گئی، وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائے جانے کا امکان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی سردار یار محمد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ نمبرپورے ہیں، یہ تحریک کامیاب ہو گی۔ تمام جماعتیں مشاورت کرکے نیا قائد ایوان نامزدکریں گی۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان کےعوام چاہتے ہیں عبدالقدوس بزنجوکومنصب سے ہٹایا جائے، عبدالقدوس بزنجو سے بلوچستان کےعوام اورارکان اسمبلی مایوس ہیں، تحریک عدم اعتماد پرساتھیوں نےدستخط کردیئے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سردار یار محمد رند نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر بہت فکرمند ہیں، صوبے میں بہت بُری صورتحال ہے، لگ رہا ہے آنے والا بجٹ جناح روڈ پرپیش کیا جائے گا، ابھی ہم اسمبلی میں عدم اعتماد تحریک جمع کرانے جا رہے ہیں، عدم اعتماد جمع ہونے پرکچھ دوست کھل کرسامنے آجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جسم کے ایک حصے پر کینسرہوجائے تواسے کاٹ دیا جاتا ہے، ہم توسمجھ رہے تھے جام کمال کے بعد مثبت تبدیلی آئے گی، بلوچستان کی صورتحال دن بدن خراب ہورہی ہے، یہ ہماری کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے، ہم نے عبدالقدوس بزنجوکوبہتری کا موقع دیا، جام کمال نے تین سال حکمرانی کرلی، بزنجوتین ماہ بھی نہیں کرسکیں گے، بلوچستان کے لوگ عبدالقدوس بزنجوسے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
ترجمان حکومت بلوچستان فرخ عظیم شاہ نے یقین ظاہر کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی۔ اگلے 5 سال بھی میر عبدالقدوس بزنجو ہی وزیر اعلیٰ بلوچستان ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ کےخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 ووٹ درکار ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ کےخلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروانے کے لیے 17 اراکین کی حمایت لازمی ہے۔
یاد رہے کہ 25 اکتوبر 2021ء کو بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اپنی پارٹی کے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی تاہم اس تحریک سے قبل ہی وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔