اسلام آباد(ممتازرپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کے کیس میں کب کیا ہوا؟ حقائق منظرعام پر آگئے۔ ڈپٹی کمشنر/ ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راجن پور نے نو اپریل 2022 کو موضع کچہ میانوالی کی جمعبندی میں خرد برد سے متعلق ڈائریکٹرجنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب،لاہور کو ریفرنس بھیجاجس میں انہوں نے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ۔11اپریل 2022کوڈی جی اینٹی کرپشن نے ڈپٹی کمشنرراجن پور کی سفارشات کی منظوری دی اوردو پٹواریوں شوکت علی اور قسمت علی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جب کہ اس معاملے میں دیگر افراد کا کردار کا تعین تحقیقات میں کیا جانا تھا۔ دوران تفتیش دار محمدافضل ،لینڈ ریفارمز کلرک ڈی سی آفس راجن پور محمد وقاص مرید ،گرداورمحمد اصغر اور پٹواری ریکارڈ روم ڈی سی آفس راجن پور عبدالرحمان کو طلب کیا گیااور ان کے بیانات قلمبند کئے گئے ۔ اسی طرح ریکارڈ بھی قبضے میں لیا گیا ۔ریکارڈ کی چھان بین کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ شیریں مہرالنساء مزاری نے محکمہ مال کی ملی بھگت کیساتھ فراڈ کرتے ہوئے انتقال نمبر 27 مورخہ 1972ء کے ذریعے 800 کنال زمین بوگس کمپنی کے نام، جس کا نام ایم ایس پروگریسو فارم لمیٹڈ تھا، انتقال کروا لیا تاہم پرت پٹوار کے ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا نہ تو خریدنے والے اور نہ ہی فروخت کرنے والے انگوٹھے اور دستخط موجود ہیں تاہم پرت سرکار عبدالرحمن پٹواری نے ریکارڈ پیش کی، فیڈرل لینڈ کمیشن نے 26 مئی 1975ء کو اس انتقال کو بوگس قرار دیا تھا، ریکارڈ سے پایا گیا کہ شیریں مزاری نے 1386 کنال زمین صوبائی لینڈ کمیشن کے حوالے کی تھیں، ریکارڈ کے مطابق شیریں مزاری کی جانب سے ٹمپرنگ، کٹنگ کی گئی تھی۔شیری مزاری کے والد عاشق مزاری لینڈ ریفارمز پر بحق سرکار ہوئیں، لینڈ الاٹ ہونے کے بعد زمین حقوق ملکیت کے طور پر کاشت کی اجازت دی لیکن پرت پٹوار میں 218, 480 کنال سمیت دیگر ہزاروں ایکٹر زمین پر قبضہ کیا گیا، 200 سے زائد لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا۔
شیریں مزاری کے کیس میں کب کیا ہوا؟ حقائق سامنے آگئے








