بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بنی گالا کے انعام اور خرم کو بلاکر پوچھیں کیا انہوں نے گھڑیاں نہیں بیچیں، عون چوہدری

کراچی (نیوز ڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام ’’جرگہ ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کی کابینہ کے معاون خصوصی عون چوہدری نے کہا ہے کہ ہم نے دل و جان سے پارٹی کی ترقی کے لیے کام کیا تھا اس دن کے لیے نہیں کیا تھا کہ خواب آئے گا اور نکال دیا جائے گا،دیکھیں میں اگر آپ کو آ کر کہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک چیز دیکھی ہے جو غلط ہورہی ہے اور میں آپ کو حلفاً اس چیز کے بارے میں بتاؤں کہ یہ ٹھیک نہیں ہو رہا

کیوں کہ میں گواہ ہوں اس چیز کا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آپ کے صوبے میں کرپشن ہوئی ہے اور اگر آپ اس چیز کو سننے کے باوجود الٹا مجھے پیچھے پھینک دیں میری بات کو غلط سمجھیں تو میرا تو ضمیر گواراہ نہیں کرتا میں سمجھتا ہوں کہ آپ جان بوجھ کر لا علم رہنا چاہتے ہیں آپ حقیقت نہیں سننا چاہتے تو اس کے بارے میں میں کیا کہہ سکتا ہوں، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عمران خان سے کبھی تلخی ہوئی ہو،جو معلومات ہیں بتا دوں تو انکا سوشل میڈیا دفاع نہیں کرسکے گا ،عون چوہدری نے کہا کہ توشہ خانہ آگیا،توشہ خانہ سے جو گیا جو مال آیا جو مال بکا وہ انعام اور خرم بیٹھے ہیں نہ جو بنی گالا میں تھا اس سے پوچھیں بلا کر اس نے نہیں بیچی گھڑیاں ۔سلیم صافی نے کہا کہ کہاں پر بیچیں ؟

عون چوہدری نے کہا کہ وہ اسلام آباد کی شاپنگ مال میں نہیں بیچی اس نے گھڑیاں اس نے رسیدیں لا کر نہیں دیں اس نے وہ تحفے تحائف نہیں بیچے اور جس کو وہ اپنا سی ایس او رکھوا لیا ہے وہ خرم اے ڈی سی اس نے وہ گھڑی نہیں بیچی وہ انعام کو بلائیں بنی گالا سے بلائیں اسے نکال نہیں دیا بنی گالا سے وہ انعام سب کچھ بتائے گا آپ کو اس نے کس کس سے کون کون سے گھڑی لے کر بیچی تو اب کہاں گیا اس کے پاس رسیدیں ہیں بل ہیں کہ وہ توشہ خانہ سے جو چیزیں آئیں اور جو ان کے پاس تحفے آئے یہ اسٹیٹ کی ہوتی ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو بولوں گا حلفاً کہوں گا نہ جھوٹ بولوں گا نہ کبھی سوچا ہے غلط بات کروں ،اگر جھوٹ بولوں اور ثابت ہوجائے تو ڈی چوک پر مجھے الٹا لٹکا دیجئے گا۔ میں نے بڑی کوشش کی جدوجہد کی اور ان کے ساتھ اس وقت کھڑا رہا جب ان کے ساتھ چند لوگ کھڑے تھے اور اس وقت شاید امید بھی نہیں تھی

کہ کچھ ہونے والا ہے یا کہیں انہیں حکومت میں آنا ہے اپنی ذاتی زندگی کو خاندان کو بزنس کو ہر چیز کو میں نے نظر انداز کر کے پہلی ترجیح دی کہ ایک کاذ کے پیچھے جانا ہے میں نے ان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے ان کو سپورٹ کرنا ہے لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ جب یہ لڑائی ختم ہوگی اور جیت پر ہی ہوگی اور اس جیت کا صلہ مجھے یہ ملے گا کہ رات کو میسج آئے گا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے کہ صبح اس حلف برداری میں نہیں آسکتے اگر میری جدوجہد کا دارومدار اور صلہ مجھے ایک خواب پر ملنا تھا تو وہ میرے لیے ایسے تھا جیسے میرے سر پر پہاڑ ٹوٹا ہو ۔

ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عمران خان سے کبھی تلخی ہوئی ہو، مجھے رات کو دو بجے میسج آیا اور میرے پاس میسج آن ریکارڈ سیف ہے جب کہیں گے دیکھا دوں گا اگر ہماری وفاداریوں کے فیصلے خوابوں پر ہونے ہیں تو ان فیصلوں سے ایسے ہی اچھے ہیں۔ سلیم صافی کے سوال پر کہ عمران خان نے یہ لکھا تھا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے آپ کا آنا ٹھیک نہیں ہے۔ عون چوہدری نے کہا کہ جی اور آپ نے صبح حلف برداری پر نہیں آنا۔ عون چوہدری نے کہا کہ پتہ ہی ہے کہاں سے فیصلے ہوتے ہیں اور کون کرتے ہیں فیصلے اور کن کے خوابوں کے فیصلے ہوئے ہیں آپ کے سامنے ہیں۔ سلیم صافی کے سوال کہ میری معلومات کے مطابق بشری بی بی سے ملاقات بھی آپ نے اُن کی کروائی تھی شادی اُن کی وزیراعظم بننے سے کئی ماہ پہلے ہوئی تھی

سارے معاملات آپ دیکھتے تھے گھر کے بھی آپ ان کے بہت قریب تھے تو سوال یہ ہے کہ انہوں نے خان صاحب کو آپ کے ہٹانے کا پہلے کیوں نہیں کہا؟ عون چوہدری نے کہا کہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا یہ تو ان کو پتہ ہے انہوں نے کیوں نہیں کہا ان کے پلان میں کیا تھا لیکن وہ پلان بعد میں سمجھ آگیا کہ کیا پلان تھا کیا۔اگر میں نے کچھ غلط کیا ہوتا تو میرا نہیں خیال خان صاحب تین سکینڈ بھی لگاتے ہیں پیٹ کے اندر بات رکھنے میں وہ کب کا باہر آگیا ہوتا میری وفاداری تھی اور خان صاحب کے ساتھ وفاداری تھی یہ میرا قصور تھا اگر میری وفاداری کہیں اور ہوتی تو میں آج وہیں ہوتا لیکن اللہ کا شکر ہے میں وہاں نہیں ہوں۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں شاید اللہ نے مجھے بچانا تھا ان تین چار سالوں میں جو پاکستان سے ظلم ہوا ہے اس سے اللہ نے مجھے دور کرنا تھا میں اللہ کا خاص کرم سمجھتا ہوں اللہ نے مجھے آئینہ دکھایا یہ وہ لوگ نہیں ہیں جن کے ساتھ وفا کی جائے رہا جائے۔ میں وہ دیوار تھا جس کو انہوں نے عبور کرنا تھا اور ان کے اپنے مقاصد پورے ہونے تھے

میں وہ رکاوٹ تھا وہ مقاصد آپ کے سامنے ہیں جو گینگ آگے آئی جس گینگ نے پاکستان کو چلایا پنجاب کو چلایایہ وہ گینگ کے پیچھے پلان تھی کہ اس کو ہٹاؤ تاکہ ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں۔اس گینگ میں کون کون تھے اس سوال پر عون چوہدری نے کہا کہ اس میں خاتون اول کی جو دوست فرح گوگی، احسن جمیل گجر اور ایک تحفہ اور آیا جس کو عثمان بزدار کی شکل میں لے آئے مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی کسی وفاداری کا ایوارڈ نہیں لینا تھا یہ ان کی پلان سازش تھی کہ اس کو ہٹانا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے ہیں اور وہ مقاصد کیا تھے میں نے خود وزیراعظم کو آکر بتایا کہ آپ نے یہ بہت بڑا بلینڈر کر دیا ہے آپ نے کیا کر دیا ہے

اس نااہل کو آدھا پاکستان پنجاب حوالے کر دیا ہے اور اس کا صلہ یہ ملا کہ اگلے ایک ہفتے کے اندر مجھے پنجاب کی کابینہ سے علیحدہ کر دیا گیا ۔ ون او ون میٹنگ میں عمران خان کو بتایا کہ سر آپ نے پنجاب کو عثمان بزدار نہیں فرح گوگی اور ان کے میاں احسن گجر چلاتے ہیں میں نے انہیں کہا اس لیے ہم نے یہ جدوجہد نہیں کی تھی یہ کون لوگ ہیں جن لوگوں کی جتنی تقرریاں ہو رہی ہیں جتنی پنجاب میں بیوروکریسی چینج ہو رہی ہے وہاں منڈی بازار لگا وہ کس لیے لگا ۔ ہم نے یہ جدوجہد اس لیے کی تھی کہ یہ لوگ آکر مسلط کریں گے آپ ہمارے اوپر عون چوہدری نے کہا کہ یہ شیشے کے گھر میں رہتے ہیں

اور لوگوں کو پتھر مارتے ہیں میں یہ نہیں کہنا چاہتا کیا پلان تھا کیا نہیں تھا یہ پوری دنیا کو پتہ ہے زبان زد عام ہے کہ کس کا پلان تھا کون حکومت چلاتا تھا پیچھے بیٹھ کر کس کے حکم چلتے تھے پنجاب میں کس کا آرڈر چلتا تھا کس کے نام سے ٹرانسفر پوسٹنگ ہوتی تھی رات کو خواب آتا تھا لیکن دن میں بیگ آجاتا تھا اور اس کے بعد فیصلہ ہوتا تھا۔ یہ حقیقتاً بتا رہا ہوں شایدخان صاحب کہیں میرے تو علم میں بھی نہیں ہے۔آپ مجھ سے لسٹ لینا چاہتے ہیں

آپ کون سے ڈپٹی کمشنر کا بتائیں کہ پوسٹنگ پیسوں کے بغیر ہوئی کون سے کمشنر کا بتائیں گے کہ پیسوں کے بغیر پوسٹنگ ہوئی کونسے پرنسپل سیکرٹری کی پیسوں کے بغیر پوسٹنگ ہوئی چیف انجنیئر تک تو پیسوں سے لگتے رہے ہیں اس صوبے میں یہ تو ہوا ہے اس صوبے کے ساتھ کیا عمران خان ان چیزوں سے لاعلم ہیں وہ وزیراعظم ہونے کے باوجود میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ میں اس کیبنٹ کا یا اس حکومت کا حصہ کیوں رہا مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے اس وقت یہ قبول کیوں کیا میں نے تو کہا کہ مجھے انہوں نے کہا ہے ٹھیک ہے تمہیں پنجاب میں ذمہ داری دے رہے ہیں وہاں پر دیکھو تم میرے آنکھیں اور کان ہو تم مجھے حقیقتاًبات بتانا جو پنجاب میں ہو رہا ہو، سلیم صافی کے سوال کہ خاور مانیکا اور ان کے بیٹے بھی اس دوران کردار رہے ہیں

عون چوہدری نے کہا کہ یہ سب گینگ ملی ہوئی تھی یہ سب ملے ہوئے تھے کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کسی کو کسی کا علم نہیں ہے جو پیسہ جو ڈی پی او جو ٹرانسفر پوسٹنگ یہ سب مانیکا فیملی تو ایسے رول کرتی تھی جیسے ان کے باپ کو وزیراعظم لگا دیا گیا ہے۔ کیا یہ تھا وہ پاکستان جس کے لیے ہم نے دن رات محنت کی ہم نے تو وہ کچھ کیا ہے جو ان کی اولاد نے ان کے لیے نہیں کیا ۔ ہم نے وہ وہ ڈیوٹی کی ہے جو ان کی سگی اولاد نہیں دے سکتی یہ بات میں حلفاًکہتا ہوں ہم نے ساری ساری رات بائیس بائیس گھنٹے جاگا ہوں دھرنے پر کھڑے ہو کر کنٹینر کے اندر ڈیوٹی دی ہے۔آج سولہ سال والے کہتے ہیں ہم بائیس سال پرانے ہیں بائیس سال پرانے صرف بوتھا دکھانے آجاتے تھے۔

عون چوہدری نے کہا کہ آپ ایسا کریں میرے بھی اثاثے چیک کروالیں فرح گوگی کے بھی کروالیں اور عمران خان کے بھی چیک کروالیں کہ کس کے بڑے ہیں ان پانچ سات سالوں میں اور کس کے کم ہوئے ہیں الحمدللہ میں نے اس پارٹی پر پیسہ لگایا ہی ہوتا جتنی میری حیثیت تھی جتنی صلاحیت تھی میں نہیں کہتا بہت بڑا سرمایہ ادار ہوں بہت سرمایہ لگایا ہے لیکن ایک پیسہ لینے کا رودار نہیں ہوں پارٹی سے میں رضاکارانہ طور پر کام کرتا تھا صبح دوپہر شام رات تک کام کرتا تھا ایک پیسے کا روادار نہیں نہ میں کوئی تنخواہ دار تھا ان کا میں جذبے اور محنت سے کام کر رہا تھا

اور ساری پارٹی کو accommodate کیا جس جس کو میں یہ نہیں بتا سکتا کہ جن کو یہ صبح اٹھ کر گالیاں دیتے تھے میں ان کی شام کو میٹنگ کروادیتا تھا میں کہتا تھا ہم نے اچھے بندے کو لوز نہیں کرنا ان کو ادھر سے کوئی کان میں کہتا تھا یہ صبح کہتے تھے اس کو پارٹی سے نکال دو ہم نے پھر بھی ایسا نہیں ہونے دیا۔ آج عمران خان کے بہت بڑے اسٹار ہیں میرے دوست بھی ہیں میں ایک چھوٹا سا قصہ سناتا ہوں فواد چوہدری الیکشن ہار گئے ضمنی انہوں نے ایک دو ٹوئٹ کردیں پارٹی کے خلاف پارٹی کے کچھ لوگوں نے آکر کہ یہ دیکھیں فواد نے کیا کردیا خان صاحب نے مجھے بلایا کہ ابھی نوٹیفکیشن نکالو اور اس کو پارٹی سے فارغ کرو ابھی اس کو پارٹی سے نکال دو حلفاً بتا رہا ہوں فواد زندہ ہیں اُن سے پوچھ سکتے ہیں ، میں نے کہا میں سر کرتا ہوں

میں نے دوپہر اور رات کا وقت گزارا انہوں نے کہا تم نے نکالا نہیں میں نے کہا میں نوٹیفکیشن بناتا ہوں آپ ریلیکس کریں مجھے تھوڑا ٹائم دیں میں نے ترین صاحب کو فون کیا کہ اچھی بات نہیں ہے وہ اچھا اسپوک پرسن ہے اگر اس نے ایک آدھی غلطی کی ہمیں نہیں کرنا چاہیے پارٹی کا اس میں فائدہ نہیں ہوگا ہم نے اگلے دن خان صاحب سے درخواست کی فواد کو بلایا فواد کو نکالنے کے بجائے پارٹی کا اسپوک پرسن لگوادیا بہت سارے لوگوں نے ہمارے مرحوم ساتھی بھی فواد کو نکلوانے کے چکر میں تھے فواد کو اور فواد آج پارٹی کے اسٹار بنے ہوئے ہیں جس کو یہ دن میں گالی نکالتے تھے ہم ان کو پھر بھی بچا لیتے تھے کہ نہیں یہ ہماری پارٹی کا حصہ ہیں

ہماری پارٹی کے لیے فائدہ مند ہوں گے ہم نے پارٹی کے لیے دل و جان سے پارٹی کی ترقی کے لیے کام کیا تھا اس دن کے لیے نہیں کیا تھا کہ خواب آئے گا اور نکال دیا جائے گا ہم پر کوئی الزام لگائیں نہ کرپشن کا لگائیں الزام لگائیں کہ ٹکٹیں بیچی ہیں میں نے عمران خان کا نام بیچا ہے ۔سوشل میڈیا پر کسی کی عزت محفوظ نہیں ہے ان کا سوشل میڈیا لوگوں کی عزت اچھال رہا ہے یہ بھی سوشل میڈیا پر کہوں گا۔ میں ان کو جوابدہ نہیں ہوں۔ میں اللہ کو جوابدہ ہوں ان کی کیا حیثیت ہے وہ تو آپ کو اور کسی کو نہیں بخشتے اس کا آپ کو بھی علم ہے ۔ جس نے پارٹی کے خلاف جانا ہے اس نے اس کو بکاؤ کہہ دینا ہے یہ تربیت نہیں ہے یہ تربیت نہ دیں

سوشل میڈیا کو اگر ہم آپ کی باتیں کھولنے بیٹھیں تو آپ کا سوشل میڈیا تو آپ کو ڈیفنڈ نہیں کرسکے گا میں اگر آپ کی باتیں کھولنے کو آیا تو آپ کا سوشل میڈیا آنکھیں بند کر کے کان بند کر کے گھر بیٹھ جائے گا ۔ آپ اپنے سوشل میڈیا کو لگام دیں لوگوں کی عزت مت اچھالیں۔ جو بھی پیڈ لوگ ہیں آپ کے لیڈر نے کہنا ہوتا ہے میسج لیڈر کی طرف سے جاتا ہے یا لیڈر کہتا ہے کہ ان کو گالیاں دو ، آپ کے توسط سے سوشل میڈیا کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ پلیز یہ نہ کہیں اور خاص طور پر میرے ساتھ بالکل نہ کیجئے گا کیوں کہ میں وہ کچھ کروں گا جس کا آپ کے پاس جواب نہیں ہوگا میں بات کروں گا حقائق پر اور دلائل پر بات کروں گا جو میرے ساتھ ہوا

اور میں نے کیا میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر کیا آپ کا وہ منہ اٹھاتے ہیں آپ ضمیر فروش کہہ دیتے ہیں پتہ ہے ضمیر فروش ہوتے کیا ہیں آپ منہ اٹھاتے ہیں غدار کہہ دیتے ہیں پتہ ہے غدار کہتے کس کو ہیں آپ نے ملک کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ملک کے ٹھیکے دار ہیں آپ ہوتے کون ہیں کسی کو غدار کہنے والے ۔ آپ مجھے بتائیں کہ میں خان صاحب کی مرضی کے بغیر کسی کو ان سے ملوا سکتا تھا نہیں ملواسکتا ناں ان کی مرضی کے بغیر اگر آپ یہ کہیں کسی کی ٹرولنگ ہوتی ہے تو الٹا ان کو چاہیے کہ مت کریں کسی کی عزت کو ایسے نہیں اچھالیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی رضامندی تو ہوتی تھی ناں تو رضا مندی کے بغیر کوئی ورکر کام نہیں کرتا اپنے لیڈر کی مخالفت پر تو کوئی کام نہیں کرتا۔ عون چوہدری نے کہا کہ 2018 سے پہلے دین کہاں تھا ہم تو چاہتے تھے ہم سے دین کی باتیں کریں لیکن یہ مذہب کی بات کو بیچ میں اسلام کو بیچ میں لانا میں اس کا قائل نہیں ہوں

یہ ان کا ایجنڈا ہے آپ نے کرنی سیاست ہے ہم جب حق اور سچ کی بات کرتے ہیں تو آپ وہ سنتے نہیں بات وہاں کہاں جاتا ہے انصاف ۔ ہم سچ بات کرتے ہیں کہ ایک چور، نااہل اور کرپٹ کو پنجاب کا سی ایم لگا دیا ہے وہاں امربالمعروف وہاں فیصلہ کہاں جاتا ہے۔ عون چوہدری نے کہا کہ کرپٹ بھی ہیں اور کرپشن کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ آپ کے رونگٹھے کھڑے ہوجائیں گے ،آپ کو آگے نظر آجائے گا کیسے کیسے انکشاف ہوں گے آپ کے سامنے آجائیں گے، میں بھی سادہ آدمی ہوں ، سادہ لوگ زیادہ گھنے ہوتے ہیں اور سادگی کا جو لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں انہیں زیادہ واردات کرنے کا طریقہ آتا ہے۔ عون چوہدری نے کہا کہ جس شخص کو نیسلے اور نیسپا کا فرق نہیں

پتہ اگر آپ پرزنٹیشن لے رہے ہوں جس کو پی سی بی کے چیئرمین کا نہیں پتہ وہ کیا ہوتا ہے اس کو آپ پنجاب کا وزیراعلیٰ لگا دیں اور کہیں کہ عون تم نے اس کو سننا ہے اس کی مدد کرنی ہے۔ سلیم صافی نے کہاکہ بزدار صاحب کو نیسلے اور نیسپا کا فرق نہیں معلوم تھا عون چوہدری نے کہا کہ میں حقیقتاً یہ بات کہہ رہا ہوں پرزنٹیشن کے وقت اس کے بعد پتہ چلا ان کو پوچھا گیا کہ نیسلے اور نیسپا میں فرق کیا ہے ان کو جی ڈی اے، ایل ڈی اے ، سی ڈی اے ، آر ڈی اے کا نہیں پتہ اس کو وزیراعلیٰ لگا دیا ۔ جس کو سیکرٹری implementation ، ایڈیشنل سیکرٹری ، ڈی ایس کا نہ پتہ ہو اس کو آپ نے لگا دیا ہے آدھے پاکستان پراور پھر اس نے ایسے ایسے کام دکھائے ہیں کہ آپ کی سوچ ہوگی ۔ عون چوہدری نے کہا کہ کیا ہم نے اس دن کے لیے جدوجہد کی تھی کیا

ہم نے پاکستان کے نعرے اس بزدار کے لیے فرح گوگی ، احسن جمیل کے لیے لگائے تھے یہ جدوجہد ان لوگوں کے لیے کی تھی کہ صوبہ ان کے حوالے کر دیا جائے گا تکلیف اس بات کی ہے کہ اپنے وفادار لوگوں کو دور کر دیا علیم خان جیسے وفادار لوگ اس وقت جب آپ علیم خان کی گاڑیاں استعمال کرتے تھے ۔ آزادی کے نعرے پر عون چوہدری نے کہا کہ کس سے آزادی چاہتے ہیں وہ پاکستان سے آزادی چاہتے ہیں کیا مطلب، ہم تو آزاد ملک میں ہیں ہم کس سے آزادی لیں جب ہم حکومت میں تھے جب آپ کی حکومت تھی تب ہم غلام تھے یا آزاد تھے اب آپ کی حکومت نہیں ہے تو آپ کو آزادی چاہیے مجھے سمجھ نہیں آتی ناں آزادی کس چیز کی آزادی چاہتے ہیں آپ ۔ آپ کی حکومت آپ کے اعمال نے گرائی ہے آپ کی حکومت آپ کی وجہ سے آپ کے اپنے وزن سے گری ہے اگر آپ analysisکریں بیٹھ کر آپ کے اگر جو قریب لوگ جو آپ نے اپنے ایڈوائزر لگائے ہوئے ہیں ان کو کھڑا کریں لائن میں اور جوتے مارنا شروع کر دیں

انہوں نے گروائی ہے آپ کی حکومت جو آپ کے ایڈوائزر ہیں انہوں نے گرائی ہے آپ کی حکومت اور آپ کے پاس کوئی narrativeنہیں بیچنے کو آپ کے پاس کوئی چورن نہیں ہے بیچنے کے لئے اس لئے آپ نے امریکا کا narrativeپکڑ لیا ہے کہ آپ کی حکومت امریکا نے گرائی ہے آپ کی حکومت کو تو گود میں بیٹھا کر لوری دلائی گئی ہے آپ کی حکومت کو تو پیار دیا گیا ہے جیسے ایک نومولود بچے کو کیا جاتا ہے اور آپ نے تو وہ وہ کیا ہے اس حکومت کے لئے کہ میں نہیں کہہ سکتا جو میں نہیں بتا سکتا میرے اندر بھی کچھ اسٹیٹ سیکریٹس ہیں میرے اندر بھی کوئی ایسی چیزیں ہیں جو میں نہیں بتا سکتا اس ملک کی خاطر آپ اپنی حکومت کو آپ جانتے ہیں یا میں جانتا ہوں کون لا یا آپ کی حکومت کو کیسے بنی آپ کی حکومت مت یہ پنڈورہ باکس کھلوائیں مت یہ کہیں ۔ عون چوہدری نے کہا کہ خود ہی کی بات ان کو وہ خود سے پوچھیں کہ ان کو کہ ان کی حکومت کس نے بنوائی خود سے سوال کریں آپ کریں لوگ کریں ان سے خود جواب دے دیں عوام کا مینڈیٹ آپ میرا منہ مت کھلوائیں تو اچھا ہے کہ کس کا مینڈیٹ کس کے گلے میں آیا کیا ہوا کیا نہیں ہوا یہ میں جانتا ہوں عمران خان صاحب جانتے ہیں لیکن اب وہ جاننے کی کوشش نہیں کریں گے

اس لئے یہ ہے کہ آپ یہ نعرہ یہ narrativeروک دیں ۔ بوٹ پالش پر عون چوہدری نے کہا کہ یہ چھوٹی بات کرتے ہیں اگر اللہ نے ان کو عزت دی ہوئی ہے اللہ ان کو وزیر اعظم پاکستان بنائے ان کو زیب نہیں دیتی ایسی باتیں ان کو زیب بالکل نہیں دیتا کہ وہ کسی عزت دار شخص کے بارے میں ایسی بات کریں کل وہ وزیر اعظم تھے آج اللہ نے کسی اور کو وزیر اعظم بنا یا ہے یہ اللہ کی عزت دی ہوئی ہے ۔ عون چوہدری نے کہا کہ اور وہ عزت دار لوگ ہیں وہ عزت دیتے ہیں اور اللہ نے ان کو عزت دی ہے آپ کسی کو اس نام سے پکارتے ہیں آپ اپنے آپ کو چھوٹا کرتے ہیں آپ لیڈر ہیں یامسخرے ہیں یہ بتائیں عزت دار لوگ تو یہ بات نہیں کرتے ہیں یہ ایسے نام عزت دار لوگ اور لیڈر لوگ ایسی بات نہیں کرتے

۔ عون چوہدری نے کہا کہ سلیم بھائی مجھے آپ پچھلے کتنے دہائیوں کے لیڈروں کے نام بتائیں بھٹو صاحب کیا کسی نے ایسی زبان استعمال کی تھی ۔ میں نے یہ تکلیف سے کہا ہے میں نے ایک وقت گزارا ہے ان کے ساتھ لیکن میں کبھی بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ ان کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کروں کیوں کہ میرے اندر ایسا انسان نہیں ہے وہ مجھے کیا کیا نہیں پتہ مجھے کیا نہیں پتہ ہے کوئی اصول نہیں ہے کوئی ایسی بات نہیں ہے ۔ وہ جن کو سناتے ہیں ناں ان کو سنانے کی جرات نہ ہی کریں تو اچھی بات ہے کیوں کہ وہ ان کو پتہ ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوااور کیسے ہوا کیا ہوا ۔ میں کہہ رہا ہوں کہ یہ جن کو سناتے ہیں ان کو مت سنائیں تو ان کے لئے بہتر ہے تب آپ کا اصول کہاں تھا تب آپ کا ضمیر یہ نہیں کہتا تھا کہ میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا یہ تو فلاں پارٹی سے آرہا ہے یہ غدار ہے یہ ضمیر فروش ہے اس وقت وہ دودھ سے دھل جاتا تھا جب پٹہ اس کے گلے میں آتا تھا وہ neat and cleanہو گیا پی ٹی آئی میں آگیا یہ ہے سیاست ۔

اینٹی امریکن اور اینٹی ویسٹ تو عمران خان ہیں نہ اس سوال پر عون چوہدری نے کہا کہ ساری زندگی وہاں رہ کر اور اینٹی بن گئے ہیں اب آپ ساری زندگی گرمی میں آٹھ آٹھ مہینے وہاں گزارے ہیں وہاں موج کریں آدھی زندگی کا حصہ وہاں گزار دیں بچے وہاں ہیں آدھی فیملی وہاں ہے اور آپ کہیں میں اینٹی ویسٹ ہوں اور اینٹی امریکن ہوں میں اس پر کیا جواب دوں آپ کو میں آپ کو کیا جواب دوں اس بات کا۔ ابھی چینج ہوئے ہیں ورنہ تو بھاگ بھاگ کے گئے ہیں وہ تو جب امریکا سے واپس آئے تو ایسا لگا انہوں نے خود کہا میں ورلڈ کپ جیت کر آگیا ہوں آج مجھے یہ لگ رہا ہے آپ کو یاد ہے ایئر پورٹ پر ان کو کیسے receiveکیا گیا کیسے receptionملی انہوں نے کہا کہ میں تو آج ایسے لگ رہا ہے کہ ورلڈ کپ جیت گیا اور اب اینٹی امریکن کیوں کہ ان کے پاس کوئی جواب ہی نہیں ہے دینے کو آپ کی پر فارمنس کی وجہ سے نکالا گیا ہے ،

میں یہ جانتا ہوں وہ مودی سےکیوں ملے تھے میں ہی وہ میٹنگ کرانے والا ہوں اب آپ نام پوچھیں وہ میٹنگ کس نے کرائی ۔اب وہ کچھ باتیں راز میں بھی رہنے دیں آپ بالکل چاہتے ہیں کہ ان کو کوئی جواب ہی نہ ملے تب مودی کہاں تھا میں نے وہ میٹنگ arrangeکرائی تھی اور مجھے پتہ ہے کہ کس نے arrangeکی اور کس کا کہا کہ کس کو پتہ نہ چلے اور ہم نے کیسے میٹنگ کرائی تب تو کوئی نہیں آیا۔ اگر ملے تو خواہش تھی ناں اگر خواہش نہیں تھی تو پھر کیوں ملے ۔ کس کے ذریعے arrangeکروایا اس سوا ل پر عون چوہدری نے کہا کہ بس یہ آپ نہ پوچھیں تو ان صاحب کی عزت کے لئے میں چاہتا ہوں کہ میں چپ رہوں ۔ ایجنڈا یہی تھا کہ بس میں بہت اچھی اور نیک سیاست کرنے والوں سے ملوں پاکستان کے لئے ایجنڈے بہت سارے تھے لیکن کچھ ایجنڈے سامنے نہیں لا سکتا ۔ بالکل موجود تھا لیکن دیکھیں یہ باتیں پھر وہ بہت ساری نکلیں گی

اگر ایک بات نکلے گی لیکن وہ میں نہیں کہنا چاہتا وہ کیسے میٹنگ ہوئی کون تھا اس میٹنگ کے پیچھے کس نے کرائی وہ میٹنگ ایسے بہت سارے سوال اٹھیں گے اس کے اوپر ۔سلیم صافی نے کہا کہ اچھا بذات خود عمران خان صاحب honestتو ہیں ناں عون چوہدری نے کہا کہ دیکھیں میں اگر آپ کو آ کر کہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک چیز دیکھی ہے جو غلط ہورہی ہے اور میں آپ کو حلفاً اس چیز کے بارے میں بتاؤں کہ یہ ٹھیک نہیں ہو رہا کیوں کہ میں گواہ ہوں اس چیز کا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آپ کے صوبے میں کرپشن ہوئی ہے اور اگر آپ اس چیز کو سننے کے باوجود الٹا مجھے پیچھے پھینک دیں میری بات کو غلط سمجھیں تو میرا تو ضمیر گواراہ نہیں کرتا میں سمجھتا ہوں کہ آپ جان بوجھ کر لا علم کرنا چاہتے ہیں آپ حقیقت نہیں سننا چاہتے تو اس کے بارے میں میں کیا کہہ سکتا ہوں، عون چوہدری نے کہا کہ توشہ خانہ آگیا توشہ خانہ سے جو گیا جو مال آیا جو مال بکا وہ انعام بیٹھا ہے ناں جو بنی گالا میں تھا اسے پوچھیں بلا کر اس نے نہیں بیچی گھڑیاں ۔ سلیم صافی نے کہا کہ کہاں پر بیچیں ؟

عون چوہدری نے کہا کہ وہ اسلام آباد کی شاپنگ مال میں نہیں بیچی اس نے گھڑیاں اس نے رسیدیں لا کر نہیں دیں اس نے وہ تحفے تحائف نہیں بیچے اور جس کو وہ اپنا سی ایس او رکھوا لیا ہے وہ خرم اے ڈی سی اس نے وہ گھڑی نہیں بیچی وہ انعام کو بلائیں بنی گالا سے بلائیں اسے نکال نہیں دیا بنی گالا سے وہ انعام سب کچھ بتائے گا آپ کو اس نے کس کس سے کون کون سے گھڑی لے کر بیچی تو اب کہاں گیا اس کے پاس رسیدیں ہیں بل ہیں کہ وہ توشہ خانہ سے جو چیزیں آئیں اور جو ان کے پاس تحفے آئے یہ اسٹیٹ کی ہوتی ہیں ۔ سلیم صافی نے کہا کہ تو اس میں خرم کے علاوہ کون کون ملوث تھے ۔ عون چوہدری نے کہا کہ میں آپ کو بس موٹی موٹی بات بتا رہا ہوں ناں آپ توشہ خانہ کی بات نہیں کر رہے یہ بات غلط ثابت ہوتو آپ مجھے لٹکا دیں الٹا آپ انعام کو بلا کر پوچھیں کہ آپ نے گھڑی بیچی کے نہیں بیچی آپ نے تحائف بیچے کہ نہیں بیچے آپ نے رسیدیں لا کر گھر میں دیں ہے کہ نہیں دیں تو اس میں آپ کو خود پتہ چل جائے گا توشہ خانہ سے چیزیں آئی ہیں کہ نہیں آئیں ہیں آپ نے گفٹ بیچے ہیں کہ نہیں بیچے ۔سلیم صافی نے کہا کہ اچھا ایک بزدار کا تو آپ بہت ذکر کرتے ہیں ایک ہمارے صوبے میں بھی ایک بزدار لگا یا گیا ہے میں ان کو بزدار پلس کہتا ہوں کچھ لوگ ا ن کو وائٹ بزدار کہتے ہیں محمود خان صاحب ۔ عون چوہدری نے کہا کہ یہ ایک اسٹوری ہے میری پاس ایک اسٹوری ہے کہ محمود خان کیوں سی ایم بنے ۔ سلیم صافی :–ہاں تو یہ ہمیں بتائیں ۔ عون چوہدری :–آپ کے پروگرام کا وقت گزر جائے گا

اور وہ اسٹوری ختم نہیں ہو گی ۔ سلیم صافی :–نہیں نہیں تو یہ kindly kindly۔ عون چوہدری :–وہ کسی اور وقت میں کریں گے ۔ سلیم صافی :–یار یہ ہمارے صوبے کا بھی تو کچھ حق ہے ناں ۔ عون چوہدری :–بالکل آپ کے صوبے کا حق ہے لیکن ۔ سلیم صافی :– پرویز خٹک کو کیوں نہیں بنا یا گیا اور ان کو کیوں بنا یا گیا ۔ عون چوہدری :–اگر پرویز خٹک صاحب سی ایم ہوتے تو آج اس صوبے کو وہ کہیں اور لے کر گئے ہوتے صوبے کی ترقی بڑھی ہوئی ہوتی اور اگر یہ سمجھتے ہیں آپ اس صوبے نے سوئپ کیا ہے تو اعظم خان کی وجہ سے نہیں کیا بلکے سیاسی لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے آپ کو ووٹ سیاسی لوگوں کی وجہ سے پڑھتا ہے بیوروکریسی آپ کو نہیں جتواتی ہے اور آپ نے کریڈٹ اعظم خان کو دے دیا ۔