اسلام آباد (ممتازنیوز) مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے جے یو آئی ایف کے وکیل کامران مرتضیٰ سے استفسار کیا کہ آپ کی جماعت کا پورا نام کیا ہے؟
جے یو آئی ایف کے وکیل کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ ہماری جماعت کا نام جمعیت علمائے اسلام پاکستان ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر آپ کی جماعت سے ف نکال دیں تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟
جے یو آئی ایف کے وکیل کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ پارٹی کا لیڈر نکل جائے تو پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اے این پی اور استحکامِ پاکستان پارٹی کی طرف سے کوئی ہے؟
سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ اے این پی اور استحکامِ پاکستان پارٹی کی طرف سے کوئی نہیں ہے، امیدواروں نے سرٹیفکیٹ لگایا تھا، الیکشن کمیشن نے کہہ دیا کہ آپ آزاد امیدوار ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ہے کہ کسی کو خود آزاد ڈیکلیئر کر دے؟ جب پارٹی بھی کہہ رہی ہو کہ یہ ہمارا امیدوار ہے، امیدوار بھی پارٹی کو اپنا کہے تو الیکشن کمیشن کا اس کے بعد کیا اختیار ہے؟
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا بینفشری جماعتوں میں سے کوئی عدالت میں سنی اتحاد کونسل کی حمایت کرتی ہے؟
اس موقع پر تمام دیگر جماعتوں نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست کی مخالفت کر دی۔
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی جانب سے بھی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کی مخالفت کی گئی۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کامطلب ہوا کہ آپ سب اضافی ملی ہوئی نشستیں رکھنا چاہتے ہیں۔









