بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بجٹ پر مفتاح اسماعیل کا سخت ردعمل، ایوان صنعت وتجارت نے بھی بجٹ مسترد کردیا

اسلام آباد:سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئندہ مالی سال بجٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وزارتیں ختم کرنے کہا، ختم نہیں کیں، اسٹیٹ بینک نےنوٹ چھاپےتومہنگائی بڑھےگی، بجٹ میں صرف پیوند لگائے گئے ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پٹرول لیوی پر20 روپے لگایا گیا ہے، ٹیکس سےتنخواہ دارطبقہ پربوجھ پڑےگا، جوٹیکس دےرہا ہے ایسی سےٹیکس لیا جائے گا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ این ایف سی سےمتعلق بات نہیں کی گئی، سیمنٹ، ادویات اوردودھ مہنگا کیا جارہا ہے، ہم پر70ہزارارب روپےکابیرونی قرض ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کےحوالےسےبھی بات نہیں کی گئی، کیاملک کواصلاحات کی ضرورت نہیں ہے؟ آئی ایم ایف نےاصلاحات کامنع نہیں کیا۔
علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے کہا کہ بجٹ کی تفصیلات سامنےآئیں گی توبات کرسکیں گے، کتاب میں کچھ لکھا ہےاورتقریرکچھ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پتا نہیں تنخواہ میں اضافہ کتنا ہوگا؟ ایساکچھ کرنا نہیں چاہتےجس سےجمہوریت کونقصان ہو، بجٹ سےایک دن پہلے تصویردیکھنا مشاورت نہیں، ہمیں بریفنگ دی گئی ہم نے سن لی۔
ایوان صنعت وتجارت نےوفاقی بجٹ مستردکردیا
نائب صدرعامرمجید شیخ نے کہا کہ بجٹ میں ایف ٹی آرکا خاتمہ ایکسپورٹرزکامعاشی قتل ہے، چھوٹے انٹرپرائزز زیادہ ہیں، انٹرپرائززاپنےاکاؤنٹس کاحساب رکھنےمیں ماہرنہیں، اس سےکرپشن کےراستےکھلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایکسپورٹراپنی بغل میں فائلیں دبائے ایف بی آر کے چکر کاٹے گا، اسطرح کے اقدام کاجوازنہیں تھا، چیمبر نے ایف بی آر کو خط لکھا تھا کہ اسکا خاتمہ نہ کیاجائے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کردیا ، جس کے مطابق چینی، موبائل فون، سیمنٹ، سریا ، تانبہ، کوئلہ، کاغذ، ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات، گاڑیاں اور جائیداد مہنگی، جبکہ سولر پینل، سولر پنکھے، الیکٹرک موٹر سائیکلیں سستی کردی گئی ہیں۔