اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے حقیقی آزادی لانگ مارث کے باعث ملکی معیشت کو مجموعی طور پر ایک ارب روپے کے لگ بھگ نقصان پہنچا۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو مجموعی طور پر ایک ارب روپے کے لگ بھگ نقصان پہنچا ہے جب کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 202.50 روپے اور اوپن مارکیٹ میں203 روپے تک پہنچ گیا ہے البتہ لانگ مارچ و دھرنا ختم ہونے کے بعد شروع ہونیوالے کاروباری دن میں ملکی سٹاک ایکسچینج میں تیزی رہی اور انڈیکس میں529 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو دیولیہ کرکے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کیلئے جال بچھایا جارہا ہے اگر دھرنا طوالت اختیار کرتا تو ملکی معیشت مکمل طور پر جام ہونے کا خطرہ تھا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ریاست مدینہ کا بیانیہ دیا موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ فتح مکہ کی مثال سامنے رکھتے ہوئے سب مخالفین کو عام معافی کا اعلان کرکے سب کو ساتھ بٹھائیں اور مل کر ملک کوآگے لے کر چلیں اور دشمن قوتوں کا ملک کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائے۔
اس حوالے سے فاریکس ایسوسی ایشن کے رہنما ملک بوستان کا کہنا ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت کا دھرنا ہوجاتا ہے ملک نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت ملک سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے اس لئے سب جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔
لانگ مارچ سے معیشت کو 1 ارب روپے کا نقصان ہوا، معاشی ماہرین








