بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ٹی آئی نے یقین دہانی کی خلاف ورزی کی، سپریم کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے عمران خان کے حالیہ دھرنے میں حائل رکاوٹوں سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اور مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا ہے، لانگ مارچ کے ختم ہونے کے بعد تمام شاہراہوں کو کھول دیا گیا، آزادانہ نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں، عدالت درخواست دائر کرنے کا مقصد پورا ہوچکا، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو نمٹایا جاتا ہے۔
اپنے فیصلے میں عدالت نے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد، سیکریٹری وزارت داخلہ، ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ایک ہفتے میں 7 سوالوں کے جواب طلب کرلئے، تمام مطلوبہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا جائزہ لیا جائے گا۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے پوچھا گیا ہے کہ عمران خان نے پارٹی ورکرز کو کس وقت ڈ ی چوک جانے کی ہدایت کی؟، کس وقت پی ٹی آئی کارکنان ڈی چوک میں لگی رکاوٹوں سے آگے نکلے؟، کیا ڈی چوک ریڈ زون میں داخل ہونے والے ہجوم کی نگرانی کوئی کررہا تھا؟۔
سپریم کورٹ نے پوچھا ہے کہ کیا حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہائی کی خلاف ورزی کی گئی؟، کتنے مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟، ریڈ زون کی سیکیورٹی کے انتظامات کیا تھے اور ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟۔
سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی استدعا مسترد کردی تاہم جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ دیا ہے۔
جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ اٹارنی جنرل کی متفرق درخواست دیکھ کر حیرت ہوئی، اٹارنی جنرل کی استدعا اختیارات کی تقسیم کے اصول کے منافی ہے، امن و امان کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، ان کی کارروائی کی اجازت مانگنے کی درخواست آئین کیخلاف ہے، یہ کہنا درست نہیں کہ عدالت کے پاس کارروائی کیلئے مواد نہیں تھا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں عمران خان کے ویڈیو بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی چوک جانے کے اعلان سے بادی النظر میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے عمران خان کے حالیہ دھرنے کو روکنے کیلئے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
عمران خان کے وکلاء کی ٹیم نے عدالت میں سرینگر ہائی وے کے قریب ایچ 9 گراؤنڈ میں دھرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
عدالت میں دی گئی یقین دہانی کے باوجود ڈی چوک پر دھرنے کیخلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی تھی۔