اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مرہون منت ہے جنہوں نے 1963 میں چین کے ساتھ پہلا سرحدی معاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ کے طور پر حلف اٹھانے کے فوراً بعد چین کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کیا جو چین کے ساتھ گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک۔چین دوستی ہمالیہ سے بلند دوستی ہے یہ دوستی علاقائی ترقی کے لیے سی پیک کے تمام منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اسلام آباد میں پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ اور پاکستان میں چین کے سفارتخانہ کے زیر اہتمام 7ویں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے سی پیک کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو پاکستان میں آنے والی تمام حکومتوں نے ہمیشہ اپنا تعاون فراھم کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر سی پیک منصوبے کا اہم ستون ہے اور اس کی ترقی نے پورے خطے کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی کے لیے سنجیدہ پالیسی کی وجہ سے اب گوادر تجارت اور رابطوں کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی پیک کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے گا ۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سی پیک کے فوائد کے حقیقی اور مثبت پہلو کی تشہیر کے لیے میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے تناظر میں میڈیا پر مہم جوئی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط معلومات کو دور کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا تنظیموں اور فورمز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے جو اس منفی پروپیگنڈے کو ختم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہی ایسا زریعہ ہے جو دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کو مزید قریب لانے اور عوامی روابط کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط اور گہرے رابطوں کا تقاضا کرتا ہے۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے پارلیمانی سفارتکاری بہت اہم ہے اور سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی سی پیک کی تیزی سے تکمیل کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سی پیک پر قائم پارلیمانی کمیٹی اس مقصد میں اپنا تعاون جاری رکھے گی۔ پاکستان میں چین کی قائم مقام سفیر نے پاک چین دوستی کے تعاون کی نئی بلندیوں تک لے جانے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سی پیک کی اہمیت پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے میڈیا کو سی پیک کے مختلف منصوبوں کی تکمیل سے حاصل ہونے والے فوائد کو مثبت تشہیر کے ذریعے عوام میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے سپیکر قومی اسمبلی کی تقریب میں شرکت کو سراہا۔ انہوں نے سی پیک کے بارے میں بھی بات کرتے ہو کہا کہ سی پیک منصوبہ خطے کی ترقی کے لیے اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا جس سے عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔
سی پیک کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے گا،سپیکر قومی اسمبلی








