کراچی(تجزیہ :قاضی سمیع اللہ) قومی احتساب بیورو (نیب) کے پانچ برس تک چیئرمین رہنے والے جسٹس(ر) جاویداقبال کی کارکردگی کے جائزہ اور تجزیہ کرنے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے دور میں ہونے والی 533ارب روپے کی ریکوری کا ریکارڈ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو فراہم نہیں کرسکے اور نہ کوئی حساب دے سکے۔ سابق چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کے دور میں احتسابی عمل متنازع رہا اور اس حوالے سے معزز عدلیہ کے متعدد مقدمات میں فیصلے اور ریمارکس ریکارڈ پر موجود ہیں جیسا کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی ضمانت کی منظوری کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں نیب کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیب کے ادارے کو سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے لیے استعمال کیا جارہا ہے ، اسی وجہ سے یہ ادارہ اپنے اصل فرائض کی بجائے کسی اور کام میں لگاہوا ہے،یہ ریمارکس اس وقت دیئے گئے جب ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور وزیر اعظم عمران خان تھے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے دور میں سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے مخالفین کے خلاف جس قدر کیس بنائے گئے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نیب جیسے غیر معمولی اور طاقت ور ادارے کے انتہائی متنازع اور کمزور ترین سربراہ ثابت ہوئے۔مئی 2019میں جسٹس(ر)جاویداقبال کی ایک شرمناک آڈیو کال اور ویڈیوبھی لیگ ہوئی تھی جس میں ایک خاتون سے نازیباحرکات اور جنسی گفتگوکررہے تھے ، سب سے افسوس ناک یہ بات تھی کہ وہ آڈیو میںجس خاتون کے ساتھ جنسی گفتگو کررہے تھے ، وہ ایک نیب کیس میں پھنسے ہوئے شخص فاروق نول کی اہلیہ ہیں۔ آڈیو اور ویڈیو سے واضح طور پر معلوم ہورہا تھا کہ جسٹس(ر) جاوید اقبال خاتون سے جنسی گفتگو کرتیہوئے، شرمناک عزائم کا اظہارکرتے ہیں، اس کے بدلے میں خاتون ان سے مقدمہ میں چھوٹ لینے کی کوشش میں تھی ۔اس قابل اعتراض آڈیو ویڈیو لیکس سے نہ صرف جسٹس(ر)جانبداری پر کئی سوال اٹھے بلکہ سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں مضحکہ خیزتبصرے بھی کئے گئے اور ان کی عمر اور حرکتوںکا موازنہ کرتے ہوئے کڑی تنقید کی گئی تھی ۔جسٹس(ر)جاویداقبال پر مختلف لوگوں کی طرف سے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے جاتے رہے۔ کہاجاتا ہے کہ چند برس قبل اسلام آباد کے سیکٹرایف 10 میں ایک خاتون اپنے فلیٹ میں پراسرار طور پر ہلاک ہوگئی تھی، مبینہ طور پر اس کی جسٹس(ر)جاوید اقبال سے دوستی تھی۔یادرہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظورپشتین نے بھی جسٹس (ر)جاوید اقبال پر الزام عائد کیاتھا کہ وہ اپنے عہدے کا فائدہ اُٹھا کر(لاپتہ افراد کیس میں فریق) پشتون عورتوں کو ہراساں کرتے ہیں۔
پولیٹکل انجینئرنگ، جنسی سکینڈلز ۔۔۔!! نیب کو بالاآخر بدنام زمانہ سربراہ سے نجات مل گئی








