راولپنڈی(وقارحسین کاظمی)صدیوں پرانا بوہڑکا درخت تھانہ ویسٹریج کی عمارت کی تعمیر میں رکاوٹ بن گیا،پولیس کی درخواست پر محکمہ جنگلات نے درخت کاٹنے سے انکارکردیا، پولیس اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سمیت متعلقہ کنٹریکٹر سر جوڑ کر بیٹھ گئے،عمارت کا پہلے سے منظور شدہ نقشہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا۔تفصیلات کے مطابق تھانہ ویسٹریج کی پرانی بوسیدہ عمارت کو گرا کر نئ عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیاگیاتھا ،نئی عمارت تعمیر کے لئے ساڑھے سات کروڑکا ٹھیکہ ہوا تاہم چھ ماہ گزرجانے کے باوجودتھانے کی عمارت کو خالی نہیں کیاجاسکا۔چندروز قبل تھانہ دوسری عمارت میں منتقل کرکے پرانی عمارت کو گرانے کا کام شروع کیا گیا،نئی عمارت کے نقشے کے مطابق جب متعلقہ ٹھیکیدارنے کام شروع کرنا چاہاتو اس کی حدود میں موجود صدیوں پرانا بوہڑکا درخت آگیا،ٹھکیدار نے اسے گرانے کی بجائے پولیس سے رابطہ کیا، پولیس کے متعلقہ افسران نے درخت گرانے کا کہا ،ٹھکیدار نے کہہ کرانکارکردیا کہ ایساکرنا قتل کرنے سے بھی بڑا جرم ہے،ہم درخت کاٹنے کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔ذرائع کے مطابق ٹھکیدار کے انکار کے بعد پولیس نے محکمہ جنگلات سے رابطہ کیا،متعلقہ اہلکار جب تھانے پہنچے تو انہوں نے بھی درخت کاٹنے سے انکار کردیا اور کہاکہ اس کی اجازت ہمارے افسران تو کیا صدرمملکت بھی نہیں دے سکتے،کل کو کوئی اگر عدالت چلاگیا تو کسی کی نوکری نہیں بچے گی۔ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی طرف سے انکار کے بعد پولیس ،محکمہ بلڈنگ اور متعلقہ کمپنی کے درمیان ہونے والے صلح مشوروں کے بعدفیصلہ کیا گیا ہے کہ صدیوں پرانے اس درخت کو اس کی جگہ سے نہیں ہٹایا جائے گابلکہ وہ عمارت کے اندرہی رہے گا۔اس ضمن میں پہلے سے منظور شدہ نقشے میں تبدیلی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اب نئے نقشے کی منظوری کے ساتھ ہی تھانہ ویسٹریج کی نئی عمارت کی تعمیر شروع کی جائے گی اوربوہڑ کا صدیوں پرانا درخت نئے نقشے میں اپنی جگہ قائم و دائم رہے گا۔
صدیوں پرانا بوہڑکا درخت تھانےکی عمارت کی تعمیر میں رکاوٹ بن گیا








