بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملکی ترقی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنا ہوگی، شہباز شریف

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو آگے چلانا ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنا ہوگی، گزشتہ حکومت نے تمام منصوبوں کو سیاست کی نذر کردیا۔
لاہور میں انڈس اسپتال کے پہلے فیز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ذات سے بالاتر ہوکر اپنی انا کو مارنا ہوگا، گزشتہ حکومت نے تمام منصوبوں کو سیاست کی نذر کردیا، ملک اس لئے بنا تھا کہ دنیا میں دیانت کے ساتھ اپنا جھنڈا بلند کریں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بنگالی بوجھ نہیں تھے انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا اور ان سے جان چھڑائی گئی، آج بنگلادیش کی ایکسپورٹ40ارب ڈالر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھناہے تو انا اور ضد سے بالا ہوکر سوچنا ہوگا، پاکستان کو آگے چلانا ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنا ہوگی، دنیا میں پٹرول،گیس کی قیمتیں آسمان سےباتیں کررہی ہے،وزیراعظم ہمیں مجبوراً قیمتیں بڑھانا پڑیں۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ غریب آدمی کو ریلیف دیں، بی آئی ایس پی ڈیٹا کی مدد سے7کروڑغریب عوام کو سبسڈی دینگے۔
اپنے بیرون ملک دوروں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور ترکی گیا تھا ان سے کہا آپ ہمارے عظیم دوست ہیں، میں نے کہا آپ سمجھ رہے ہوں گے میں مانگنے آیا ہوں مگر میں مانگنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہاکہ قومیں صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں، انشااللہ ملکی مسائل کے حل کیلئے دن رات سوچ رہا ہوں، لوڈشیڈنگ جیسے مسائل سے واقف ہوں کل ہم نے فیصلہ کیا ہے2 گھنٹےسے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ ہو، شدید گرمی، مہنگائی اوراوپر سے لوڈشیڈنگ، رات کو پنکھا بند ہوگا تو غریب پاگل ہوجائے گا۔، میں نے کہہ دیاکہ 2گھنٹےسےزائد لوڈشیڈنگ قبول نہیں کرونگا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ساڑھے3سال جو ہوا اس کا بھی حساب لینا ہے کہ نہیں، کیا صرف مجھ سے ڈیڑھ ماہ کا حساب لینا ہے۔ میں نے کہا ہے کہ پیک آورز میں میٹرو کی ٹکٹ آدھی کردیں، بجلی منصوبے موجود ہیں، تیل ،گیس اور کوئلہ مہنگا منگوانا پڑرہا ہے، عوامی مسائل کے حل میں سیاست کو نوگوایریا بنادیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ میں موجود ڈیٹا بہت شفاف ہے، اس کے تحت ہم 7 کروڑ عوام کو 2 ہزار روپے مہینہ دیں گے۔محمد شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کے پلانٹ موجود ہیں لیکن ساڑھے تین سال تک جو ہوا اس کا حساب کون لے گا’ مجھے آئے ہوئے ڈیڑھ مہینہ ہوا ہے، میں حساب دینے کو تیار ہوں
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ویلفیئر ہسپتال کی تعمیر پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ انڈس ہسپتال کے بانیان کی مدد سے ہم نے مظفر گڑھ میں طیب اردوان ہسپتال کو باخوبی فعال رکھا ہے۔
انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں میری ملاقات میاں احسان اور اقبال کراچی سے ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ہم نے یونیورسٹی بنانی ہے یہ انسانی فلاح کا کام ہے اس میں کچھ مسائل ہیں انہیں حل کروادیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے مجھے ہسپتال بنانے کا بھی کہا تھا لیکن اس وقت میں نے ان سے طیب اردوان ہسپتال کو چلانے کی درخواست کی ، طیب اردوان 2010 میں سیلاب کے بعد ترک حکمت کے اشتراک سے بنایا گیا تھا۔
محمدشہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے بہتر انداز میں ہسپتال کو چلایا اور خدمات انجام دیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں نے ہسپتال‘انڈس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر باری کو دینے کا کہنا تھا تو ان کے متعلقہ افسر نے بولی لگانے کے لیے کہا جس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میں نے اس ہسپتال کو ڈاکٹر باری کے حوالے کیا۔ بعدازاں اس ہسپتال کی سلسلہ وار ترقی توسیع کرتے ہوئے ہم اس ہسپتال کو مظفر گڑھ کا بہترین ہسپتال بنا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل حکومت نے کئی ہسپتال بنائے اور ان کے حوالے کیے اور یہ اس کی کوئی تنخوا نہیں لیتے بلکہ صرف حکومت پنجاب کے مقرر کردہ بجٹ میں سے پیسے لیتے ہیں اور پیسے کے استعمال سے مستحق لوگ مستفید ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوبلی ٹائون میں واقع 600 بستروں پر مشتمل ہسپتال میں بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ لاہور انڈس ہسپتال کے بانیان میں اقبال کراچی و اہلخانہ، جاوید ارشد بھٹی اور میاں محمد احسن شامل ہیں، ہسپتال کی تعمیر میں اقبال کراچی کی جانب سے 2 ارب روپے، احسن محمد احسن، جاوید بھٹی، احسن پرویز، انوار غنی، اعجاز گوہر، میاں طلعت اور میاں احمد سمیت دیگر نے اربوں روپے کے تعاون کا اعلان کیا ۔افتتاحی تقریب میں بانیان انڈس ہسپتال اقبال کراچی و اہلخانہ، جاوید ارشد بھٹی’ میاں محمد احسن’ احسن پرویز، انوار غنی، اعجاز گوہر، میاں طلعت ‘ میاں احمد’ڈاکٹر امجد ثاقب سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی