کراچی(شوبز ڈیسک)پاکستانی اسٹار منال خان نے ماں بننے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے اس خاص سفر کے بارے میں کھل کر باتیں کرڈالیں۔
ڈرامہ ’جلن‘ اور ’حسد‘ میں اپنی بہترین اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ منال خان نے 10 ستمبر 2021 کو اپنے ساتھی اداکار احسن محسن اکرام سے شادی کی تھی اور گزشتہ سال نومبر میں ان کے بیٹے ‘محمد حسن اکرام’ کی پیدائش ہوئی۔
منال خان شادی کے بعد سے اداکاری کی دنیا سے کافی دور نظر آرہی ہیں اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں واپسی کا تاحال کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔
منال خان نے حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں پہلی مرتبہ اپنے حاملہ ہونے سے بچے کی پیدائش اور اسکے بعد بیمار پڑ جانے کے بارے میں انکشافات کیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘میرا بیٹا ایک سرپرائز کی طرح ہی ملا اور اس تحفے کے ملنے پر ہم زندگی بھر شکر گزار رہیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میں یہ خبر جان کر بالکل بھی حیران نہیں ہوئی تھی کیونکہ میں اپنی فیملی میں ایسا اضافہ چاہتی تھی، جسکی یہ وجہ ہرگز نہیں تھی کہ میں تنہائی محسوس کرنے لگی تھی بلکہ وجہ یہ تھی کہ میں اپنے بچے کے ساتھ آگے کی زندگی گزارنا چاہتی تھی، اس کے ساتھ عمر بڑھتی دیکھنا چاہتی تھی’۔
انکا کہنا تھا کہ ‘میں نہیں چاہتی تھی کہ میں 30 سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد فیملی پلان کروں بلکہ اُس عمر میں میری اپنی لائف ہو، میں اپنے بچے کی اسکولنگ سے فارغ ہوچکی ہوں’۔
منال خان نے کہا کہ ‘میری شادی تو بس اچانک ہوگئی، ایک شخص ملا، جس سے مجھے محبت ہوگئی، پھر وہ شادی کیلئے صحیح انتخاب بھی لگا، اس وقت مجھے یہ پتا تھا کہ میرے لیے وہ شخص پرفیکٹ ہے، بس اس لیے شادی کرلی’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘شادی کے دو سال بعد پہلی اولاد کے ہونے کا سرپرائز ملا، لیکن میں اتنی زیادہ سرپرائز نہیں تھی کیونکہ مجھے ایموشنل ہیلپ حاصل تھی، میری بہن 3 ماہ کے حمل سے تھی، شوہر کے بعد میں نے پریگننسی نیوز ایمن کو دی جس نے مجھے کہا کہ ‘بس اب تمہیں کسی بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس پورے سفر میں میں تمھارے ساتھ ہوں اور ایسا ہی ہوا، اب ہم دونوں کے بچوں میں 2 ماہ کا فرق ہے اور وہ بیسٹ فرینڈز کی طرح ایک ساتھ بڑے ہورہے ہیں’۔
منال خان نے یہ بھی کہا کہ ‘میری پریگننسی کا ٹائم اچھا تھا لیکن بیٹے کی پیدائش کے بعد میرا پوسٹ پارٹم ٹائم بہت بُرا تھا کیونکہ مجھے سی سیکشن کی وجہ سے انفیکشن ہوگیا تھا، میرا بیٹا 10 دن کا تھا اور میں بیمار ہوگئی تھی، لیکن اس وقت میں احساس ہوا کہ چاہے ارد گرد کتنی ہی مدد موجود ہو، بچے کیلئے ماں کو ہمت کر کے کھڑا ہونا ہوتا ہے ورنہ مُم گلٹ ہوتا ہے’۔









