واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ انتظامیہ میں شمولیت کے امکانات کے جلو میں ایسا لگتا ہے کہ مشہور امریکی ارب پتی ایلون مسک نے اپنے اپنے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر محاذ اور جنگیں کھولنے لگے ہیں۔
انہوں نے جرمن چانسلر اولاف شولز کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں جس پر جرمنی میں سخت رد عمل دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ “اولاف ایک بیوقوف شخص ہے”۔ انہوں نے ایکس اکاؤنٹ پر جمعرات کو ایک پوسٹ لکھا تھا کہ جرمنی میں “سوشلسٹ حکومت” گر چکی ہے۔
تاہم ٹیسلا کے ’سی ای او‘ نے بعد میں واضح کیا کہ ان کا مطلب جرمن چانسلر سے نہیں تھا۔
“عنقریب ٹروڈو رخصت ہوجائے گا”
ایلون مسک نے بہ ظاہر ایک اور محاذ بھی کھول دیا۔ اس بار کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے خلاف انہوں نے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک ایسے صارف کے جواب میں بھی لکھا جس نے کینیڈا کو ٹروڈو سے نجات دلانے میں مدد کرنے کو کہا تو مسک نے کہا کہ “وہ اگلے انتخابات میں رخصت ہو جائیں گے”۔
فوربز کی درجہ بندی کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص سمجھے جانے والے مسک نے حالیہ مہینوں میں صدارتی انتخابات کے لیے امریکی امیدوار ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی بھرپور حمایت کی تھی۔
ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے ساتھ مسک کا ممکنہ طور پر امریکی حکومت میں شمولیت اور شاید اہم اثر و رسوخ ہوگا۔
ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مسک کو سرکاری اخراجات میں کمی کی ذمہ داری سونپیں گے۔
دریں اثناء ایلون مسک کی قیادت میں دو کمپنیاں الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور ایرو اسپیس کمپنی اسپیس ایکس مستقبل میں امریکی حکومت کے اخراجات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔









