ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے سابق فوجی بھارت کے شہر کلکتہ اور ریاست آسام پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے دی۔
وی نیوز کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان ریٹائرڈ بنگلہ دیشی فوجی جوانوں کی بھارت مخالف بیانات دینے کے کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہورہی ہیں۔
سوشل میڈیا سائٹس پر وسیع پیمانے پر شیئر اور گردش کرنے والی ویڈیوز میں بنگلہ دیشی فوج کے سابق اہلکار یہ دعوے کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ کس طرح مغربی بنگال، آسام میں کلکتہ پر ’4 دن کے اندر‘ قبضہ کیا جاسکتا ہے۔
ایک ویڈیو میں بنگلہ دیش کا ایک ریٹائرڈ فوجی دعویٰ کررہا ہے کہ اگر 30 لاکھ بنگلہ دیشی ان کے مشن میں شامل ہوجائیں تو کس طرح 5 ہزار 100 فوجی اہلکاروں کا ایک بنیادی گروپ اسے حقیقت بناسکتا ہے اور کلکتہ اور دیگر اہم ہندوستانی علاقوں پر چند دنوں میں قبضہ کر سکتا ہے۔
ایک اور کلپ میں بنگلہ دیشی فوج کا ایک سابق افسر کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ کس طرح بنگلہ دیشی فوج ’بہتر تربیت یافتہ‘ ہے اور اپنی قوم کے دفاع اور بھارت کو ’سبق‘ سکھانے کے لیے ’جنگ کے لیے تیار‘ ہے۔
بنگلہ دیش کے سابق فوجیوں کے یہ تبصرے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بگڑتے تعلقات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں،جو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد، اور نوبل انعام یافتہ محمد کی قیادت میں ایک عبوری حکومت ڈھاکہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔
اگرچہ بنگلہ دیش کے سابق فوجیوں کی طرف سے کیے گئے تبصرے ذاتی حیثیت میں کیے گئے لگتے ہیں تاہم وہ مجموعی ماحول کے بارے میں خدشات پیدا کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش اور اس کے شہری کس طرح حالیہ دنوں میں بھارت کے بارے میں نظریہ بدلے ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے ریٹائرڈ فوجیوں کی کلکتہ اور آسام پر قبضہ کرنے کی دھمکی








