اسلام آباد(طارق محمودسمیر)وزیراعظم کے مشیربرائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ملکی حالات ٹھیک کرنے کے لیے تین بڑے سیاست دانوں کے مل بیٹھنے کی تجویزدے دی،لاہورمیں خواجہ محمدر فیق کی برسی کی تقریب سے خطاب میں راناثناء اللہ نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور صدر آصف علی زرداری ساتھ مل کر بیٹھیں تو ملک کے 70 سالہ بحران کا خاتمہ 70 دن میں ہو جائے گا،اس موقع پر سعد رفیق نے بھی ملک کو محفوظ کرنے کے لئے درست فیصلے کرناہوں گے توقع ہے مذاکرات میں سنجیدگی ہوگی اور کوئی نہ کوئی راستہ نکلے گا،راناثنااللہ کی طرف سے دی گئی تجویزیقیناًوقت اور حالات کا تقاضا ہے،بلاشبہ ماضی میں نوازشریف اس کے لیے عملی کوشش بھی کرچکے ہیں ،2013کے انتخابات میں اقتدارسنبھالنے کے بعد بنی گالہ میں عمران خان کی رہائشگاہ پرجانااور پھربانی پی ٹی آئی کے سٹیج سے گرکرزخمی ہونے پر شوکت خانم کینسر میموریل ہسپتال میں ان کی عیادت کرنا اور انہیں گلدستہ پیش کرنااسی جذبے کامظہرتھالیکن دوسری جانب سے اس خیرسگالی کاجواب مایوس کن ہی رہاہے ،اب جب کہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا آغازہواہے ان مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں تینوں رہنماملک کے لیے ایک پیج پر آسکتے ہیں چنانچہ راناثناء اللہ کی تجویزپرعمل مشکل ضرورہے لیکن ناممکن نہیں، پیپلزپارٹی پہلے ہی پی ڈی ایم حکومت اور پھرحالیہ حکومت میں ن لیگ کی اتحادی ہے اوردونوں بڑی جماعتوں کے درمیان قومی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کے حوالے سے اتفاق رائے موجود ہے، اگرحکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو راناثنااللہ کو اپنی تجویزپرعملدرآمدکیلئے کوششیں کرنی چاہئیں حکومت اورپی ٹی آئی کیدرمیان مذاکرات 2 جنوری کواسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں پیش کئے جانے مطالبات کو پاکستان تحریک انصاف نے تحریری شکل دے دی ہے تحریک انصاف نے اپنے پہلے مطالبے میں لکھا کہ مختلف واقعات میں گرفتارکارکنوں کی رہائی سب سے پہلے کروائی جائے، پی ٹی آئی نے9 مئی اور26 نومبرواقعات کی تحقیقات کامطالبہ بھی تحریری شکل میں درج کر دیا ہے اوران واقعات کی تحقیقات کیلئیجوڈیشل کمیشن تشکیل دینیکامطالبہ بھی شامل ہوگا مذاکرت میں مطالبات کی تحریری کاپی حکومت کیحوالیکی جائے گی، حکومت اور پی ٹی آئی کیدرمیان مذاکرات 2 جنوری کواسلام آباد میں ہوں گے،یقیناًپی ٹی آئی کی طرف سے پیش کئے جانے والے مطالبات پر حکومت کے ردعمل سے ان مذاکرات کی کامیابی یاناکامی کاتعین ہوجائے گا۔
تین بڑ وں کے مل بیٹھنے کی تجویزپرعملدرآمد ناممکن نہیں








