اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں جاری پولیو مہم کی پیشرفت اور اس کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ فروری 2025 میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جو انسداد پولیو مہم کی مؤثر حکمت عملی اور تمام متعلقہ اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نے پولیو کے کیسز میں منفی رجحان کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے تمام صوبوں کی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی عزم ہے، جس کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مزید مستعدی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے انسداد پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی فورسز کے تعاون کو بھی سراہا اور ہدایت کی کہ پولیو سے متعلق تمام ڈیٹا کو ڈیجیٹائز کیا جائے تاکہ مانیٹرنگ کا عمل مزید سخت اور مؤثر بنایا جا سکے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ فروری 2025 کی انسداد پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں 42.5 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے، جبکہ پولیو سے متاثرہ اضلاع میں تقریباً 90 فیصد بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی۔ اس سال کے آغاز سے اب تک ملک میں 6 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر کیسز بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا کے علاقوں میں سامنے آئے۔ تاہم، انسداد پولیو مہم کے آغاز کے بعد ان اضلاع میں پولیو کیسز میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سال 2025 کے پہلے 6 ماہ میں تین انسداد پولیو مہمات کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جن میں سے فروری میں پہلی مہم مکمل ہوچکی ہے جبکہ آئندہ دو مہمات اپریل اور مئی میں منعقد کی جائیں گی۔ پولیو مہم کی مستقل نگرانی کے لیے جدید آئی ٹی ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو ہر مرحلے پر مہم کی پیشرفت کو مانیٹر کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرت، سینیٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے، جنہوں نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔








