بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سائلین سے رشوت لینے کی شکایات، عدالتی عملے کے خلاف سخت کارروائی متوقع

اسلام آباد(صغیر چوہدری )اسلام آباد ہائی کورٹ میںعدالتی سٹاف کی سائلین سے رشوت وصولی کی شکایات پر جسٹس بابر ستار کے سیکرٹری نے انکوائری کے لیے خط لکھ دیا،ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار کی ہدائت پر ان کے سیکرٹری نے رجسٹرار کو خط لکھا ہےجسٹس بابر ستار کی ہدایت پر لکھے گئے خط کی نقول تمام ججز کے سیکرٹریز کو بھی ارسال کر دی گئیں ہیں۔خط میں مبینہ طور پر لکھا گیا ہے کہ کورٹ اسٹاف ریلیف لینے والے سائلین اور وکلا کا پیچھا کرکے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں تباہ کن پریکٹس نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہےسائلین سے رقم وصول کرنے والے اسٹاف کیخلاف انکوائری کرکے برائی کو جڑ سے اکھاڑا جائے ،اسلام ہائی کورٹ کے کورٹ رومز اور کوریڈورز کی ویڈیو مانیٹرنگ ہوتی ہے ،رجسٹرار آفس گزشتہ دو ہفتے کی فوٹیج نکال کر دیکھ سکتا ہے کہ اسٹاف مطالبہ کرکے رقم لے رہا ہے ،
اگر ایسے مطالبات کی رپورٹس درست ثابت ہوں تو ملوث اسٹاف کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ،
جسٹس بابر ستار کے سیکرٹری نے خط میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے مستقل ملازمین اپنی سروسز کے عوض تنخواہیں مراعات وصول کرتے ہیں،ہائیکورٹ ملازم کا ریلیف حاصل کرنے والے کسی سائل یا وکیل سے رقم کا مطالبہ کرنا مس کنڈکٹ کے زمرے مئں آتا ہےتمام عدالتیں بشمول ہائیکورٹس شہریوں کی خدمت، انصاف کی فراہمی کے لئے بنائی گئی ہیں
عدالتوں اور ان کے اسٹاف کو اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں پوری کرنی چاہیئںکورٹ ملازمین کا کسی وکیل یا سائل سے رقم لینا رشوت ستانی کے زمرے میں آتا ہے ،اس طرح رقم لینا انصاف کی فراہمی کے بدلے میں رینٹ لینے کے مترادف ہے
شہریوں کو انصاف کی فراہمی کرنے والی عدالت میں اس کلچر کی کوئی گنجائش موجود نہیںعام فہم ہے کچھ دیگر ہائیکورٹس کا اسٹاف سائلین اور وکلا سے رقم مطالبہ کرتا ھے ، جن ہائیکورٹس میں اس پریکٹس کو تباہ کن تصور کرتے ہوئے بھی برداشت کیا جاتا ہے ان کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایسی کوئی پریکٹس موجود نہیں تشویشناک ہے کہ دیگر ہائیکورٹس سے اسٹاف ٹرانسفر کے بعد رقم کا مطالبہ کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں رقم کا مطالبہ کرنے کی اس برائی کو لازمی طور پر جڑ سے ختم کیا جانا چاہیے ، پاکستان کی کچھ عدالتوں کے احاطوں میں دیواروں پر ‘رقم کا مطالبہ سختی سے منع ہے’ لکھا ہوا ہے ،اس کے باوجود ان سائن بورڈز کے نیچے رقم کا مطالبہ بھی ہوتا ہے اور لی جاتی ہے ،اگر اس مرحلے پر اس پریکٹس کو کاروائی کرکے ختم نہیں کیا جاتا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کا کلچر خراب ہو گا