بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان سے معاہدے کی خفیہ تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد ملک ریاض فیملی کا اہم بیان

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض کے خاندان نے نیشنل کرائم ایجنسی اور عمران خان حکومت کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدے کے نکات کو منظر عام پرلانے پر تشویش کا اظہار کیاہے ، اس سلسلے میں برطانیہ کی قانونی فرم ” کنگ سلے نیپلے ایل ایل پی “ نے اپنی کلائنٹ کے توسط سے خصوصی بیان بھی جاری کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ موقف حکومت پاکستان کے گزشتہ روز کیئے گئے اعلان سے متعلق ہے جس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض کے خاندان کے افراد کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں ،بیان میں کہا گیا مورخہ 6 نومبر 2019 کو طے پانے والے خفیہ معاہدے میں دو اہم نکات کا ذکر کیا گیا تھا۔

”پہلے نکتے میں نیشنل کرائم ایجنسی کے لیے غیر مشروط طور پر کچھ اثاثے منجمد کرنے کے احکامات کو واپس لینا تھا جو نیشنل کرائم ایجنسی نے برطانیہ کے متعدد بینک اکاو¿نٹس پر حاصل کیے تھے کیونکہ حکومت پاکستان کی جانب سے نیشنل کرائم ایجنسی کو خط لکھا گیا تھا جس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز کی جانب سے 2007 میں جائیداد کے حصول اور اس کے بعد ملک ریاض کے بیٹے کو 2016 میں فروخت کرنے کا حوالہ دیا گیا تھا۔“

”دوسرا نکتہ یہ تھا کہ اکاو¿نٹ ہولڈرز کی ہدایت پر ملک ریاض کے کاروبار، بحریہ ٹاو¿ن (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر واجب الادا قرض کے بدلے ان بینک اکاو¿نٹس کے مواد کی ادائیگی کی جائے۔“خفیہ معاہدے میں ایک ہائیڈ پارک پلیس کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو اسی قرض کی مد میں ادا کی جانے والی رقم کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایجنسی کو اس عمل کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے رازداری کی بھی ضرورت تھی اور معاہدے اور متعلقہ معلومات دونوں کو خفیہ رکھنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ خاندان اس عمل کو قابل افسوس سمجھتا ہے کہ حکومت پاکستان نے اپنے ہی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جو انہوں نے نیشنل کرائم ایجنسی اور دیگر فریقین سے کیا تھا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خاندان نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدہ ایک سول معاملہ تھا اور یہ جرم کی تلاش کی نمائندگی نہیں کرتا تھا، اور اس پر عوامی مفاد میں دستخط کیے گئے تھے۔