لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کہاہے کہ آئین کے آرٹیکل 109 کے تحت مجھے اسمبلی کا اجلاس بلانے اور برخاست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
صحافیوں سے گفتگوکرتے ہو ئے گورنر پنجاب کاکہنا تھا کہ اس وقت اسمبلی کا آئینی اجلاس صرف ایک ہے جو ایوان اقبال میں ہو رہا ہے،پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کی ہونے والی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کو اجلاس نہیں کہا جا سکتا۔
بلیغ الرحمٰن کا کہناتھا کہ دو سیاسی جماعتوں کی میٹنگ میں زیر بحث آنے والی قرارداد کی کوئی آئینی حثیت نہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی جس میٹنگ کو اجلاس کہہ رہے ہیں اسے میں ختم کر چکا ہوں،ایوان اقبال میں ہونے والے بجٹ اجلاس میں پنجاب کا بجٹ منظور کیا جائے گا اور تمام ادارے اس بجٹ کے تحت کام کریں گے۔
گورنر پنجاب نے کہاکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کے حوالے سے آئینی اقدامات انتہائی مجبوری کے عالم میں اٹھائے گئے ہیں،اسپیکر اور اپوزیشن نے بارہ کروڑ عوام کے بجٹ کو اسمبلی میں دو روز تک پیش نہیں ہونے دیا،انتہائی غیر معمولی حالات میں سوچ سمجھ کر آئینی اقدام اٹھایا، گورنر پنجاب کاکہناہے کہ اولین ترجیح صوبے میں تعلیم اور ماحولیات کے شعبے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر تعلیم کی حثیت سے جو اقدامات کئیے انہیں اب بطور چانسلر صوبے میں آگے بڑھائوں گا،بحثیت گورنر تقرری میرے لئے ایک سرپرائز تھا۔
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی، ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی میٹنگ کو اجلاس نہیں کہہ سکتے،گورنرپنجاب








