بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پیپلزپارٹی بینظیر قتل کی تحقیقات میں سنجیدہ نہیں تھی، رائو انوار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ پولیس کے افسر سابق ایس ایس پی رائو انوارنے کہا ہے کہ ،پیپلزپارٹی بینظیر قتل کی تحقیقات میں سنجیدہ نہیں تھی،پرویز مشرف کا بینظیر قتل کیس میں کوئی رول نہیں تھا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو چیمپئن بننے کا شوق تھا،مخدوم امین فہیم اور سینیٹر انور بیگ نے مجھے ایم کیو ایم کے خلاف عمران خان کی مدد کرنے کےلئے کہا ،میں نے عمران خان کو ایم کیو ایم کے خلاف مواد دیا،نقیب اللہ اشتہاری ،تعلق طالبان گروپ سے تھا۔نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے رائو انوار نے کہا کہ بینظیر بھٹو کا قتل 2007میں ہوا میں اس میں تین سال بعددسمبر2010 میں شامل ہوا تھا،میں نے جب تحقیقات شروع کیں تو مجھے کچھ نہیں پتہ تھا میں نے ساری چیزیں ٹی وی پر دیکھی تھیں ،اس وقت بینظیر بھٹو کا بلیک بیری فون نہیں تھا،میں آصف زرداری کے پاس چلا گیا کہ شاید ان کے پاس ہوتو انہوں نے کہا کہ وہ فون رحمان ملک کے پاس ہے اگر آپ کہیں تو میں اسے کہہ دیتا ہوں وہ آپ کو دے دے گا۔میں نے کہا کہ بینظیر نے ہک پہنا ہوا تھا تو زرداری صاحب نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو وہ بھی دیکھا دیتا ہوں بچوں نے عقیدت کے طورپر رکھا ہوا ہے ،آصف زرداری نے کوئی ایسی نیگیٹو بات نہیں کی تھی تو اس کے بعد مجھے ڈی آئی جی خالد قریشی نے کہا کہ آگے نہ کہنا وہ سمجھو کہ مل گئے ہیں ،رحمان ملک نے مجھے کہا کہ کوئی بھی اس کیس سے متعلق بات ہو آپ مجھے کہنا زرداری صاحب کے پاس نہ جانا۔انہوں نے کہا کہ دو پولیس آفیسرز کے ساتھی زیادتی ہوئی تھی۔بینظیر کی سکیورٹی کے انچارج رحمان ملک تھے اور رحمان ملک کی گاڑی آگےتھی ،گاڑی جس سپیڈ سے چلے گی تو پیچھے والی گاڑیاں اسی سپیڈ سے چلیں گی ،رحمان ملک کی گاڑی نے ایسی سپیڈ کیوں رکھی کہ پورا مجمع اکٹھا ہوگیا،بہت ساری چیزیں تھیں، بہت سارے سوالات تھے ۔پیپلزپارٹی کے پاس بہت اچھے وکیل تھے ، فاروق ایچ نائیک، لطیف کھوسہ وغیرہ لیکن انہوں نے اس کیس میں دلچسپی نہیں لی ،پیپلزپارٹی خود بینظیر قتل کی تحقیقات میں سنجیدہ نہیں تھی ۔رحمان ملک نے مجھے کہہ دیا تھا کہ آپ چھوڑیں رہنے دیں ،میں نے جے آئی ٹی پر سائن نہیں کئے ۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کا بینظیر قتل کیس میں کوئی رول نہیں تھا۔رائو انوار نے کہا کہ میں نے نقیب اللہ محسودکو نہیں مارا،نہ کوئی ایسی چیز ثابت ہوئی اور نہ ایسا کوئی الزام ہے،جب میں ٹیم کے ہمراہ مقابلہ والی جگہ پہنچا تو اس وقت مقابلہ ختم ہوچکا تھا،میں مقابلہ سے دو منٹ بعد پہنچا ، وہ کچاکا ایریا تھا اورمیرے آفس سے بہت دور تھا ۔ایس ایچ او نے مجھے پیغام بھیجا کہ 2 دہشت گردے مارے گئے ہیں اور 2کی شناخت نہیں ہوئی تو وہی پیغام میں نے آگے بھیج دیا۔انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ اشتہاری تھا،جب ہم نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ گڈاپ اور سچل پولیس اسٹیشن میں2014 میںاس کا کریمنل ریکارڈ تھا،ایف آئی آر موجود ہیں، رائو انوار نے کہا کہ نقیب اللہ سمیت4اغوا کار مارے گئے تھے اور ایک فرار ہو گیا تھا جو بعد میں پکڑا گیا اور آج تک جیل میں ہے ۔یہ ایک طالبان گروپ تھا،2016 میں نقیب اللہ کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا،باقاعدہ تین اخباروں میں اشتہار دیاگیاتھا ۔رائو انوار نے کہا نقیب اللہ کانام نسیم اللہ ولد محمدخان ہے،جو کمیٹی بنی اس میں ڈی آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی ثناء اللہ عباسی تھے ۔ثناءاللہ عباسی نے مجھے دو کام کہے تھے ، پہلاکام انہوں نے یہ کہا کہ میری بیوی ڈاکٹر ہے اور و ہ سپر ہائی وے پر ہسپتال بنانا چاہ رہی ہے ،ایک ایکڑ زمین یا پلاٹ دلائیں ،دوسری بار انہوں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ اس کا پلاٹ ہے اور اس پر نمبر لگانا ہے ، ایک کروڑ روپے کا نمبر لگتا ہے تو اس کی دس سے بیس لاکھ ویلیو بڑھتی ہے ،میں نے صاف انکار کردیا تھا۔صحافی نے سوال کیا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوموٹو لیا تو آپ پیش نہیں ہوئے جس پر رائو انوار نے کہا کہ ثاقب نثار نے جو سوموٹو لیا وہ منظور پشتین کی درخواست پر لیا گیا،سوموٹو اس وقت ہوتا ہے جب ایف آئی آر نہ کٹے ۔انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کو انہوں نے خود توسیع دی ہوئی تھی کہ آپ لگے رہیں آپ کو کوئی نہیں ہٹائے گا ،آئی جی ان کا اپنا تھا، میرے خلاف ایف آئی آر کٹ گئی تھی ،کس چیز پر انہوں نے سوموٹو لیا ،بلاوجہ ان کو چیمپئن بننے کا شوق تھا۔رائو انوار نے کہا کہ نقیب اللہ کے والد کو آئی جی سندھ خودلے کر آئے وہ نہیں آرہا تھا، والد کو لینے کےلئے باقاعدہ کراچی سے گاڑیاں بھیجی گئی تھیں ۔رائو انوار نے کہا کہ میں خانہ کعبہ میں جا کر حلفاً کہتا ہوں کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا تھا کہ جو کام نہیں کرتا اس کو مار کر پھینک دیا کریں ،انہوں نے کہا کہ میں نے صاف انکار کردیاتھا ،میں نے آج تک کسی کو نہیں مارا،اے ڈی خواجہ منافق آدمی ہے ،رائو انوار نے کہا کہ مجھے2007میں مخدوم امین فہیم اور سینیٹر انور بیگ نے کال کی اور کہا کہ عمران خان کل سکاٹ لینڈ میں ایم کیو ایم کے خلاف کیس کرنے جا رہے ہیں آپ کے پاس ایم کیو ایم سے متعلق بہت زیادہ چیزیں ہیں لہذا آپ ان کی مدد کریں جتنی کر سکتے ہیں ، میں پارلیمنٹ لاجزمیں گیا جہاں صرف تین افراد عمران خان ، سینیٹر سیف اللہ نیازی اور ایک اورشخص موجود تھا، میں نے ان کی مدد کی،ایک ڈیڑھ ماہ بعد میں پھر عمران خان سے ملا۔