ممبئی(ممتاز نیوز) بالی ووڈ کے مشہور ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کرن جوہر کی آنے والی فلم ’جگ جگ جیو‘ کو ریلیز سے قبل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کاپی رائٹ کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق کیس میں بھارت کے علاقے رانچی کی ایک تجارتی عدالت نے کرن جوہر کی آنے والی فلم ’’جگ جگ جیو‘‘ کو 24 جون کو تھیٹر میں ریلیز ہونے سے پہلے کورٹ میں اس کی اسکریننگ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ویاکام 18 اسٹوڈیوز اور دھرما پروڈکشن کے بینر تلے بننے والی فلم ’جگ جگ جیو‘ پر رانچی میں مقیم ایک مصنف وشال سنگھ نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیاتھا۔
وشال نے سوشل میڈیا پر بھی دھرما پروڈکشن اور کرن جوہر کے خلاف آواز اُٹھائی تھی اور یہ ثبوت بھی دیئے تھے کہ انہوں نے 2020 میں پروڈکشن ہاؤس کو اپنی کہانی ای میل کی تھی اور ان کی اجازت کے بغیر ان کی لکھی کہانی پر فلم بنا لی گئی جبکہ انہیں کوئی معاوضہ یا کریڈٹ بھی نہیں ملا۔
وشال سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی کہانی ‘بنی رانی’ فلم میں بغیر کسی کریڈٹ کے استعمال کی گئی ہے انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ فلم کی ریلیز پر پابندی لگائیں، ساتھ ہی انہوں نے 1.5 کروڑ روپے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ عدالتی اسکریننگ کے بعد جج ایم سی جھا ثبوتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے کہ آیا فلم کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتی ہے یا نہیں اس کے بعد ہی فلم کو ریلیز کی اجازت مل سکے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ’’جگ جگ جیو ‘‘کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی پاکستان کے معروف گلوکار ابرار الحق نے اپنا مشہور گانا ’نچ پنجابن ‘ چوری کرنے پر کرن جوہر اور دھرما پروڈکشن کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ابرارالحق کو گانے کا کریڈٹ دیا گیا تھا۔









