اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ عارف علوی کو صدرنہیں مانتا،نیب قوانین میں ترمیم پی ٹی آئی حکومت بھی کرناچاہتی تھی،اس معاملے پر ہم سے رابط کیا تھا، چودھری پرویز الہٰی نے کہا تھا ہم سے غلطیاں ہوئیں،نواز شریف سے معافی دلوادیں،پنجاب میں آئینی بحران ہے جو عنقریب ختم ہوجائےگا ،آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی گئیں،ایک آدھ روز میں آئی ایم ایف کا معاملہ حل ہوجائے گا ،بالکل ناکام نہیں ہوئے،ناکامی ورثے میں ملی جسے کامیابی میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے کئے مگرآخرمیں ان پرعمل نہیں کیا، ہم نے پچھلی حکومت کے کئے گئے معاہدے پر عمل کیاہے، آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی گئی ہیں،ایک آدھ روز میں آئی ایم ایف کا معاملہ حل ہوجائے گا۔انہوںنے کہاکہ یہ لوگ فیٹف کابڑا ڈھول بجارہے ہیں،آئی ایم ایف کا جنازہ بھی تو پڑھیں ناں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خود نیب میں ترمیم کرناچاہتی تھی ،پی ٹی آئی حکومت نے چارسال میں نیب قوانین پر ہم سے رابطہ کیا،پی ٹی آئی کے لوگوں کے روز بیانات بدلتے ہیں ان کےکسی بیان پر کیااعتمادکرنا؟۔انہوں نے کہاکہ الزام لگانے والے کوالزام ثابت کرناہوتا ہے۔جھوٹے الزام پر بھی سزاہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ نیب قوانین میں ڈپٹی چیئرمین کی گنجائش موجود ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ پچھلی حکومت اتنی ناہل تھی کہ قانون سازی کے لئے بھی فوج کو مداخلت کرناپڑی۔انہوں کہاکہ عمران خان نے اپنے اقتدار کیلئےاسپیس سرنڈرکی، عمران جب سازش کی بات کرتے ہیں یاتنقید کرتے ہیں تو اصل بات باتیں ان کو خیمے کے اندر کون لایا،عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چڑھ کراقتدارمیں آئے تھے ۔ایک سوال پر وزیردفاع نے کہاکہ میں عارف علوی کو صدرتسلیم نہیں کرتا،راجہ ریاض کواپوزیشن لیڈر مانتاہوں ۔انہوں نے کہاکہ ہم بالکل ناکام نہیں ہوئے،ناکامی ورثے میں ملی جسے کامیابی میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسحاق ڈار نے اپنے دورمیں بہت اچھے قدامات کئے تھے ،مفتاح اسماعیل ناکام نہیں ہوئے ۔بیرونی سازش سے متعلق انہوں نے کہاکہ عمران خان جب اقتدار میں تھے توخود جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنایا؟ قومی سلامتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے بعد جوڈیشل کمیشن بناتے۔انہوں نے تسلیم کیاکہ پنجاب میں آئینی بحران ہے تاہم عنقریب یہ ختم ہوجائےگا ، مخلوط حکومت میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی مسائل رہتےہیں ، پرویزالٰہی اور ان کے خاندان کا بہت احترام کرتاہوں۔حکومت کی تبدیلی سے متعلق خرم دستگیرکے حالیہ بیان کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہاکہ خرم دستگیرنے کسی اورتناظرمیں بات کی ۔ تمام تراختلافات کے باوجود چودھری خاندان کابہت احترام کرتے ہیں، میں ایسی کوئی بات نہیں کرناچاہتاجو حقائق برعکس ہو۔انہوں نے کہاکہ پرویزالٰہی نے میرے کان میں کہاتھا کہ خواجہ تیری نوازشریف سے بڑی قربت ہے ان سے بات کریں ہم سے کوئی غلطیاں ہوئیں تو معاف کردیں، ہم ایک نیا باب شرو ع کرنے جارہے ہیں، ایک عندیہ بھی دیاکہ پارٹیوں کا انضمام ہوجائے گاپھرپھر اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا۔یہ بات اس لئے کررہاہوں کہ ہم پورے خلوص کے ساتھ پرویزالٰہی کے گھر گئے تھے ۔
علوی کوصدرنہیں مانتا، پرویز الہٰی نے کہا تھا ہم سے غلطیاں ہوئیں،نواز شریف سے معافی دلوادیں، خواجہ آصف








