نئی دہلی: بھارتی حکومت کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجے گئے آل پارٹیز کے وفود کو خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر بھارت کے اندر سے سوالات اٹھنے لگے۔ بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اس معاملے میں مکمل طور پر فاتح کے طور پر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف نام نہاد آپریشن سندور کے بعد دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سات تمام جماعتی وفود 33 عالمی دارالحکومتوں میں بھیجے ۔ یہ وفود، جن میں 51 سیاسی رہنما اور 8 سابق سفارت کار شامل ہیں، یہ اقدام 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیاجس کاالزام پاکستان پرلگاکر بھارت نے 7 مئی کونام نہاد آپریشن سندور کیا، جس میں پاکستان میں شہری مقامات کو نشانہ بنایاگیا ۔بھارتی وفود نے روس، جاپان، متحدہ عرب امارات، فرانس، اور دیگر ممالک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں، اور میڈیا کے ساتھ ملاقاتیں کیں لیکن کسی ملک کی طرف سے بھارت کی موقف کی کھل کرحمایت نہیں کی جس پر بھارتی تجزیہ کارمودی سرکار کو تنقیدکانشانہ بنارہے ہیں، کسی ملک نے بھارت کے نئے اسٹریٹجک نظریے، یعنی “مودی ڈاکٹرائن” کی حمایت نہیں کی ۔
پاکستان کیخلاف بیرون ممالک کادورہ کرنیوالےبھارتی وفود کو ناکامی کاسامنا،مودی سرکارپرکڑی تنقید








