بالوں کا جھڑنا (Hairfall)مردوں میں ایک عام مسئلہ ہے جو آہستہ آہستہ شروع ہو سکتا ہے جبکہ بعض افراد میں بیماری، ذہنی دباؤ، ادویات یا ہارمونز میں تبدیلی کے بعد بھی بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی علاج سے پہلے بال جھڑنے کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے کیونکہ ہر شخص کیلئے ایک ہی طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر طبی تاریخ، سر کی جلد اور ضرورت پڑنے پر خون کے ٹیسٹ کے ذریعے وجہ جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ادویات سے علاج
ابتدائی مرحلے میں بعض افراد کیلئے منوکسڈل بالوں کی نشوونما میں مدد دے سکتا ہے، نتائج سامنے آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور فائدہ برقرار رکھنے کیلئے اس کا مسلسل استعمال ضروری ہو سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:ارجن کپور بہن کی شادی پر والدہ کو یاد کرتے ہوئے رو پڑے، جذباتی ویڈیو وائرل
موروثی طور پر بال پتلے ہونے کی صورت میں بعض مردوں کو ڈاکٹر فناسٹرائیڈ تجویز کر سکتے ہیں۔ چونکہ اس دوا کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
پی آر پی اور لائٹ تھراپی
بالوں کی کم ہوتی گھنی ساخت کیلئے پی آر پی اور لو لیول لیزر تھراپی بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ پی آر پی میں مریض کے اپنے خون سے حاصل کیے گئے اجزا سر کی جلد میں انجیکٹ کیے جاتے ہیں مگر ان طریقوں کے نتائج ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتے۔
ہیئر ٹرانسپلانٹ
زیادہ بال جھڑ جانے کی صورت میں ہیئر ٹرانسپلانٹ ایک اور آپشن ہے جس میں سر کے ایسے حصے سے صحت مند بالوں کے فولیکلز لیے جاتے ہیں جہاں بال موجود ہوں اور انہیں گنج پن یا کم بالوں والے حصے میں منتقل کیا جاتا ہے۔
اس کے دو معروف طریقے ایف یو ای اور ایف یو ٹی ہیں مگر ہیئر ٹرانسپلانٹ مستقبل میں باقی قدرتی بالوں کے جھڑنے کو نہیں روکتا، اس لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کی بحالی کیلئے کسی ایک طریقے کا انتخاب دوسروں کے نتائج دیکھ کر نہیں کرنا چاہیے۔ بال جھڑنے کی وجہ، عمر، موجودہ بالوں کی حالت، علاج کے ممکنہ نقصانات اور مستقبل میں بالوں کے جھڑنے کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہر ڈاکٹر سے مناسب طریقہ علاج کا انتخاب کرنا بہتر ہے۔









