بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

‘رانجھنا’ کے 12 سال مکمل، جشن میں کون کون شریک؟

بھارتی سپر ہٹ فلم ‘رانجھنا’ کی ریلیز کے بارہ سال مکمل ہونے پر فلم میکرز نے ممبئی میں شاندار جشن کا انعقاد کیا۔
سال 2013 میں سینما گھروں کی زینت بننے والی فلم ‘رانجھنا’ اپنے نام کی طرح ہی محبت کی انتہا خود میں سموئے بیٹھی ہے۔

اس کامیاب ترین فلم نے رواں برس 12 سال مکمل کرلیے ہیں لیکن آج بھی یہ بالی وڈ متوالوں کی سب سے پسندیدہ فلموں میں سے ایک ہے جس کو جتنی دفعہ بھی دیکھیں بور نہیں ہوتے لیکن آخری سین کو دیکھ کر روتے ضرور ہیں۔

ممبئی میں معنقدہ اس جشن میں ‘کندن’ کا شریک نہ ہونا لازمی ایونٹ کو پھیکا بنادیتا اور اس بات کا خیال رکھتے ہوئے انہوں نے سیاہ تھری پیس سوٹ میں دلکش انٹری دی۔

دھنوش نے نہ صرف اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر پاپارازی کے سامنے پوز دیے بلکہ فلم کے ٹائٹل ٹریک ‘رانجھنا’ پر بھی ہوک اسٹیپس دے کر سب سے داد حاصل کی۔

ایونٹ میں اداکار ذیشان ایوب سمیت دیگر اسٹارز، ہدایتکار آنند ایل رائے اور لیریکسٹ ارشاد کامل بھی شرکت کرتے دکھے لیکن فلم کی جان ‘زویا’ یعنی سونم کپور اس نامعلوم وجوہات کی بناء پر شریک نہ ہوسکیں جس کی کمی فینز کو بھی محسوس ہوئی۔

اس فلم میں سونم کپور ایک مسلمان لڑکی ‘زویا حیدر’ کا کردار نبھاتی نظر آئیں جبکہ تامل فلم انڈسٹری کے ہیرو دھنوش اس فلم سے بالی وڈ ڈیبیو دیتے ہوئے ‘کندن شنکر’ بنے نظر آئے جو ایک پنڈت کے بیٹے تھے۔

اس فلم کی کہانی زویا حیدر اور کندن کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔ دونوں اسکول کے زمانے میں ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن مختلف مذاہب کے پیروکار ہونے کی وجہ سے اس رشتے کا طے پانا ایک ناممکن سی بات تھی اور دوسری وجہ دونوں کی کم عمر بھی تھی جس کے پیشِ نظر زویا کے والدین انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔

فلم کی ابتداء سے لے کر آخر تک کندن اپنی محبت زویا کو حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ آزما لیتا ہے لیکن قسمت میں دونوں کا ملنا لکھا ہی نہیں تھا کیونکہ جب زویا کو کندن سے محبت ہوئی تو زویا کا خاندان رکاوٹ بنا اور جب زویا کے پاس اپنا فیصلہ خود لینے کا اختیار آیا تو زویا کے دل میں کندن کے لیے کوئی محبت بچی ہی نہیں تھی کیونکہ وہ کسی اور سے محبت کر بیٹھی تھی۔

فلم کے آخر میں کندن کی آواز میں سنا جانے والے والا ڈائیلاگ فلم بینوں کے کانوں میں ہمیشہ گونجتا رہے گا اور انہیں محبت سے دور رہنے کا درس دیتا رہے گا۔