بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کا واپس آنا ان کا بنیادی حق ہے وہ آئیں گے، سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسلام آباد کے کے پی ہاؤس کے باہر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے واضح طور پر کہا کہ عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم کا سیاسی تحریک میں شامل ہونا ایک بنیادی حق ہے، اور “یہ حق انہیں واپس آئے بغیر نہیں چھینا جا سکتا”

لاہور روانگی کیوں؟: جلسے، ملاقات اور آرٹیکل 19
سلمان اکرم راجہ نے اطلاع دی کہ PTI کا قافلہ لاہور روانہ ہوا ہے تاکہ عوامی جلسے اور میٹنگز کے ذریعے ملک کی معاشی و سیاسی مسائل پر بات ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اور کل اجلاس ہوں گے، اس کے بعد یہ واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:

یہ قافلہ صرف گفتگو اور سننے کے لیے جا رہا ہے

آرٹیکل 19 کے تحت اظہارِ رائے کا حق ہم سے چھینا گیا ہے

ہمیں عوام کے مسائل سننے اور انہیں حل کرنے کا حق ہے

جماعت کی قیادت اور قیام کا عزم
سلمان اکرم راجہ نے جہلم کے قریب ظہر کی نماز کے مقام کا اعلان کیا اور بتایا کہ پارٹی کی قیادت لاہور میں قیام کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا کے رہنماؤں کے رہائش کا بندوبست پہلے سے ترتیب دی گئی ہے ۔

دو تہائی اکثریت اور جمہوری حقوق
PTI کے سیکرٹری جنرل نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارٹی کی 85٪ اکثریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دو تہائی قوانین لانے ہیں تو حکومت کو آئینی طور پر اکثریت درکار ہے۔ مگر موجودہ حکومت کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ہے ۔ انھوں نے زور دیا کہ پارلیمانی طاقت کی روشنی میں عوامی حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

تاریخی سیاق و سباق اور احتجاجی حقوق
سلمان اکرم راجہ نے پاکستان کے سیاسی ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے ذکر کیا کہ بی نظیر بھٹو نے بھی احتجاجی تحریک چلائی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت میں احتجاج جائز ہے اور حق کی جدوجہد کرنے میں کوئی جرم نہیں ۔ سول آزادیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا:

احتجاج کرنا آئینی حق ہے

عوامی تحریک کے بغیر سیاسی حق کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا

سیاسی حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی
سلمان اکرم راجہ کا پیغام واضح ہے: عمران خان کے بیٹوں کا واپس آنا نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ یہ تحریک کا حصہ بھی ہے۔ PTI عوامی جدوجہد جاری رکھے گی، کیونکہ وہ عوامی مسائل کی روشنی میں برابر بیٹھنا، بات کرنا اور شہری حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔