اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی مجوزہ ڈیل کو قبول کر لیا تھا، لیکن حماس نے اسے مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق اسرائیل نے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف اور دیگر ثالثوں کی ترامیم کے ساتھ معاہدے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
نیتن یاہونے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ “حماس کسی بھی معاہدے کو ماننے سے انکاری ہے اور اپنی عسکری طاقت میں اضافے پر اصرار کر رہی ہے، جو کہ ہمارے لیے بالکل ناقابل قبول ہے”۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ “ہم قیدیوں کی رہائی کے لیے پُرعزم ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اس کے خطرات کا سدباب کرنے کے لیے بھی ہم اپنا مشن جاری رکھیں گے”۔
حماس کا دوٹوک مؤقف
ادھر فلسطینی حکومتی رابطہ مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو الرب نے “العربیہ/الحدث” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے دی گئی تجاویز محض جنگ کو طول دینے کی کوشش ہے۔
العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق حماس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی موراگ محور پر موجودگی کو ر تسلیم نہیں کرے گی۔ اس وقت ثالث فریقین کے درمیان اتفاق رائے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ مذاکرات کے مکمل تعطل سے بچا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث اسرائیل سے نئی فوجی تعیناتی کی نقشے طلب کر رہے ہیں جو مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران نافذ ہوں گے۔ اگلے چند گھنٹے مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
نقشوں پر تنازعہ
فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس جنوری میں قطر کی جانب سے پیش کردہ سکیورٹی نقشوں کی تجویز پر دوبارہ غور کے لیے آمادہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج کو سرحد سے 700 میٹر پیچھے ہٹنا ہوگا، جبکہ کچھ مخصوص علاقوں میں یہ فاصلہ 400 میٹر تک کم کیا جا سکتا ہے، بشرطے کہ تمام فریقین اس پر متفق ہوں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حماس ان نقشوں میں معمولی ردوبدل پر تیار ہو سکتی ہے، لیکن وہ موراگ محور کو کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی۔ اس محور کی موجودگی تقریباً چار لاکھ فلسطینیوں کی رفح واپسی میں بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
60 روزہ معاہدے کی تجویز
امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے کہا ہے کہ قطر میں جاری مذاکرات میں حماس اور اسرائیل تین میں سے چار متنازع نکات پر اتفاق کر چکے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک مکمل معاہدہ ہو جائے گا۔
سب سے اہم اختلافی نکتہ اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق ہے۔ حماس کا مطالبہ ہے کہ فوج اُس پوزیشن پر واپس جائے جہاں وہ مارچ میں جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے تھی، لیکن اسرائیل اس مطالبے کو ماننے سے انکاری ہے۔
تاہم یہ طے پا گیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران وہ علاقوں جہاں سے اسرائیلی افواج پیچھے ہٹیں گی، وہاں اقوام متحدہ یا دیگر غیر وابستہ بین الاقوامی تنظیمیں امدادی سرگرمیاں انجام دیں گی۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ “غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن” کو اپنی کارروائیاں محدود کرنی پڑ سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ قطر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان غیر مستقیم مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جس کا مقصد دو ماہ کی جنگ بندی کا معاہدہ ہے۔ اس دوران حماس اُن دس یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جنہیں اُس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران غزہ منتقل کیا تھا۔









