2 اگست 2027 کا دن فلکیاتی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ ہوگا، جب کروڑوں افراد ایک نایاب فلکیاتی مظہر، مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کریں گے۔ یہ گرہن تین براعظموں کے مختلف حصوں سے دیکھا جائے گا اور اس کا شمار گزشتہ سو سال سے زائد عرصے میں نظر آنے والے طویل ترین مکمل سورج گرہنوں میں ہوگا۔
اس حیرت انگیز مظہر کا دورانیہ چھ منٹ اور 23 سیکنڈ ہوگا، جو زمین سے نظر آنے والے طویل ترین سورج گرہنوں میں سے ایک ہے۔ ماہرینِ فلکیات، اسکائی واچرز اور عام افراد کے لیے یہ ایک ایسا نادر موقع ہوگا جو زندگی میں شاید ایک ہی بار نصیب ہوتا ہے۔
اکثر مکمل سورج گرہنوں کا دورانیہ تین منٹ سے بھی کم ہوتا ہے، لیکن اس بار غیر معمولی طویل دورانیہ شمسی کورونا (Sun’s corona) کے گہرے اور مفصل مشاہدے کا موقع فراہم کرے گا، جو زمین پر موجود افراد کے لیے ایک شاندار منظر ہوگا۔
یہ مکمل سورج گرہن بحر اوقیانوس سے شروع ہو کر مشرقی سمت کی طرف بڑھے گا۔ space.com کے مطابق، چاند کا سایہ جو تقریباً 258 کلومیٹر چوڑا ہوگا، جنوبی اسپین، شمالی مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا، وسطی مصر، سوڈان، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ سے ہوتا ہوا بحر ہند میں چاگوس جزیرہ نما کے قریب ختم ہوگا۔
خصوصاً مصر کے تاریخی شہر لکسر میں چھ منٹ سے زائد مکمل اندھیرا چھا جانے کا امکان ہے، جو وہاں کے رہائشیوں اور سیاحوں کے لیے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ ہوگا۔
یہ فلکیاتی منظر اس وقت نمودار ہوتا ہے جب چاند اپنی مدار میں گردش کرتے ہوئے سورج اور زمین کے درمیان آ جاتا ہے، جس کے باعث سورج جزوی یا مکمل طور پر چھپ جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ، چاند اور سورج کے درمیان فاصلے سے تقریباً 400 گنا کم ہے، اسی لیے گرہن کا نظارہ زمین پر بہت محدود علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے، اور پوری دنیا میں بیک وقت اس کا مشاہدہ ممکن نہیں ہوتا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اپریل 2024 میں بھی ایک یادگار سورج گرہن دیکھنے میں آیا تھا، جب 9 اپریل کو امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے مختلف علاقوں میں دن اچانک رات میں بدل گیا۔ یہ امریکہ میں گزشتہ ایک صدی میں پہلا مکمل سورج گرہن تھا، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلا مکمل سورج گرہن وہاں 120 سال بعد ہوگا۔









