نائیجیریا کی ریاست کٹسینا میںگزشتہ 6 ماہ کے دوران غذائی قلت سے 652 بچے لقمہ اجل بن بن گئے، امدادی فنڈز میں امریکی کٹوتیاں ہلاکتوں کا سبب بنیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق نائیجیریا کی ریاست کٹسینا میں غذائی قلت سے سیکڑوں بچے ہلاک ہوگئے ہیں، ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ امدادی فنڈزمیں امریکی کٹوتیاں ہلاکتوں کا سبب بنی ہیں، بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی فنڈنگ بندش سے غذائی قلت بڑھ گئی۔
ایم ایس ایف نے کہا کٹسینا میں 70 ہزار بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، 10ہزار کی حالت تشویشناک ہے، شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد میں 208 فیصد اضافہ ہوا۔
شمالی نائیجیریا میں بیماریوں کے پھیلاؤ کےساتھ ساتھ ویکسین کی کمی اور غربت جیسے عوامل غذائی قلت کی بڑی وجوہات ہیں۔
بچوں کی ہلاکتوں کی بڑی وجہ عدم تحفظ، غربت اور طبی سہولتوں کا فقدان ہے، ریاست کٹسینا میں بدامنی اور ڈاکوؤں کے خوف سے لوگ کھیت چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
ڈبلیوایف پی کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کے شمال مشرق میں 13لاکھ افراد کو خوراک کی بندش کا سامنا ہے، 150 سے زائد غذائی مراکز بند ہونے کا خطرہ ہے جب کہ 7 لاکھ افراد کی زندگی خطرے میں ہے۔
غذائی قلت سے 652 بچے لقمہ اجل بن گئے








