فرانس کے شمالی علاقے میں واقع ملک کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کو اُس وقت عارضی طور پر بند کرنا پڑا جب جیلی فش کے ہجوم نے کولنگ سسٹم کو متاثر کر دیا۔
انرجی کمپنی EDF کے مطابق، گریولینز نیوکلیئر پاور پلانٹ کے چار ری ایکٹرز کو اس وقت بند کرنا پڑا جب نارتھ سی سے منسلک کولنگ کینال میں جیلی فش کا بڑا جھتا پانی کے پمپوں میں جمع ہوگیا۔ پمپوں میں رکاوٹ کے باعث ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنا ممکن نہ رہا، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پانی کے بڑھتے درجہ حرارت اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے جیلی فش کی افزائش کو فروغ دیا ہے، اور یہ مسئلہ صرف فرانس تک محدود نہیں، بلکہ ماضی میں چین، جاپان اور بھارت کے جوہری پلانٹس بھی جیلی فش کے باعث متاثر ہو چکے ہیں۔
پلانٹ کے باقی دو ری ایکٹرز پہلے ہی مرمت کی وجہ سے بند تھے، یوں چھ میں سے تمام یونٹس عارضی طور پر غیر فعال ہو گئے۔
واضح رہے کہ ایشیائی نسل کی مون جیلی فش کو 2020 میں پہلی بار نارتھ سی میں دیکھا گیا تھا، اور اب وہ یورپ کے ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔









