بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آوارہ کتوں سے پاک دنیا کا پہلا ملک، کیسے نجات پائی؟

آوارہ کتے نہ صرف انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ریبیز جیسی جان لیوا بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں سڑکوں پر آوارہ کتے نظر نہیں آتے  اور وہ ملک ہے نیدر لینڈ ۔
یہ کارنامہ کسی جادو سے نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے، منظم اور انسانی ہمدردی پر مبنی حکومتی حکمتِ عملی کی بدولت ممکن ہوا۔
سب کچھ کہاں سے شروع ہوا؟
انیسویں صدی کے دوران نیدر لینڈ میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا، جس کے بعد ریبیز کی وبا نے خوف پھیلا دیا۔ اس کے نتیجے میں لوگوں نے اپنے پالتو کتوں کو گھروں سے نکالنا یا مارنا شروع کر دیا مگر حکومت نے سختی سے ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی اور عوام میں شعور پیدا کیا۔
شہریوں کو بیدار کیا گیا
چونکہ نیدر لینڈ میں کتے خوشحالی اور اسٹیٹس کی علامت سمجھے جاتے تھے، اس لیے حکومت نے لوگوں کو سمجھایا کہ وہ جانوروں کو مارنے یا ترک کرنے کے بجائے انہیں **شیلٹر ہومز سے گود لیں ۔ اس مہم نے عوامی رویے میں تبدیلی پیدا کی۔
آبادی پر قابو نس بندی سے
حکومت نے آوارہ کتوں کی آبادی کو قابو میں رکھنے کیلئے نس بندی کی مفت مہم چلائی۔ یہ ایک غیر متشدد، سائنسی طریقہ تھا جس نے آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافے کو روکا، اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ بالکل ختم ہو گئے۔
رجسٹریشن سسٹم متعارف

پالتو کتوں کے لیے رجسٹریشن لازم قرار دی گئی۔ اس سے ہر کتے کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے اور ان کی نگرانی آسان ہو گئی۔ اس کے علاوہ عوام کو ترغیب دی گئی کہ وہ خریدنے کے بجائے شیلٹرز سے جانوروں کو اپنائیں۔
آج کا نیدر لینڈ
آج نیدر لینڈ میں تقریباً ہر گھر میں پالتو کتا موجود ہے، لیکن سڑکوں پر آوارہ کتوں کا تصور ختم ہو چکا ہے۔
یہ کامیابی دنیا کے باقی ممالک کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر نیت ہو، پالیسی واضح ہو اور عوام کو ساتھ لے کر چلا جائے تو کوئی بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے — چاہے وہ جانوروں کی فلاح کا ہو یا شہریوں کی حفاظت کا۔