بھارت میں نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا۔ 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے نئی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک نوجوانوں کے ایک نئے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی نے مرکزی حکومت پر ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے جن کی بنیاد پر 25 جولائی کو طلباء کی تحریک ختم کی گئی تھی۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے اس مجوزہ مارچ کو پرامن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ ’جنریشن زی، نوجوان مظاہرین اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ اس دھوکے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے‘۔
سورو داس نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ ان کی پارٹی کو اب اس بات پر کوئی اعتماد نہیں رہا کہ نریندر مودی کی حکومت 25 جولائی کو احتجاج کرنے والے طلباء سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
سی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ’قومی ورکنگ کمیٹی نے اس بات پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ آیا حکومت 25 جولائی کو نوجوانوں سے کیے گئے وعدوں کا پاس رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔ اس لیے ایک پرامن احتجاجی مارچ کی کال دی گئی ہے ۔
جو انڈیا گیٹ سے شروع ہو کر نئی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک جائے گا۔ اس احتجاج کی قیادت خودکشی کرنے والے ‘نیٹ’ طلبا کے اہل خانہ اور 20 جولائی کو ہونے والی پولیس گردی کے متاثرین کریں گے‘۔
واضح رہے کہ سی جے پی کی یہ تحریک امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور ‘نیٹ-یو جی’ کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف 20 جون کو جنتر منتر سے شروع ہوئی تھی جس کے بعد یہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گئی تھی۔
20 جولائی کو سی جے پی کی قیادت میں پارلیمنٹ کی جانب طلبہ کے مارچ پر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
یہ احتجاجی تحریک 25 جولائی کو تب ختم کی گئی جب اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور حکومت نے سی جے پی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد ان کے دیگر مطالبات تسلیم کر لیے تھے۔
مزید پڑھیں:شہری 1 لیٹر پیٹرول پر 130 روپے 75 پیسے ٹیکس اور مارجنز ادا کرنے پر مجبور
ان مطالبات میں خودکشی کرنے والے نیٹ امیدواروں کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کی ادائیگی اور مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز کی واپسی شامل تھی۔









