بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران کا عالمی جوہری ادارے سے بات چیت جاری رکھنے کا اعلان  

ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کسی فریم ورک کے طے ہونے سے پہلے اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی  نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان حالیہ دنوں میں رابطے ہوئے ہیں، اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں اس مذاکراتی عمل کا دوسرا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت اہم ہے، خاص طور پر جوہری تنصیبات کے معائنے کے حوالے سے۔ تاہم ایران اپنی پوزیشن پر قائم ہے کہ جب تک کوئی ٹھوس فریم ورک طے نہیں پاتا، اس وقت تک کسی بھی معائنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ عالمی جوہری ادارے کے نمائندے مذاکرات کے لیے ایران آ رہے ہیں، لیکن انہوں نے یہ واضح کیا کہ ان کے ایرانی جوہری تنصیبات کے دورے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران آئی اے ای اے سے صرف اسی حد تک تعاون کرے گا جو پہلے سے طے شدہ دائرہ کار کے اندر آتا ہے۔ جب تک کوئی نیا معاہدہ یا سمجھوتہ سامنے نہیں آتا، جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب، ایرانی اول نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی جوہری تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حالات سازگار ہوں تو امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات ممکن ہیں۔ > انہوں نے امریکی مطالبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران سے مکمل یورینیم افزودگی ترک کرنے کا مطالبہ حقیقت سے دور اور ایک مذاق کے مترادف ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے ماہ ایران کی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ بعض اقسام کے تعاون کو معطل کر دیا گیا۔ اس قانون کے مطابق، ایران کی جوہری تنصیبات کا کوئی بھی معائنہ صرف اس وقت ممکن ہوگا جب سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اس کی منظوری دے۔