پاکستان کا بینکاری نظام ایک نئے دور میں قدم رکھ چکا ہے، اسٹیٹ بینک نے ادائیگیوں اور سیٹلمنٹ کے عمل کو تیز، محفوظ اور جدید بنانے کے لیے پرزم پلس (PRISM+) نامی نیا نظام متعارف کرا دیا ۔
PRISM+ دراصلPakistan Real-Time Interbank Settlement Mechanism Plus کا مخفف ہے، جو ملک میں بینکوں کے مابین ٹرانزیکشنز کو رئیل ٹائم پر پروسیس اور سیٹل کرنے کے لیے بنایا گیا نظام ہے۔ یہ 16 جون 2025 سے لاگو ہوا ہے۔
یہ نظام ISO 20022 عالمی مالیاتی میسجنگ اسٹینڈرڈ پر مبنی ہے، جس سے لین دین میں ڈیٹا کی ساخت، شفافیت، اور بینکنگ سسٹمز میں باہمی مطابقت بہتر ہوتی ہے۔
اہم خصوصیات:
ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (RTGS) : بڑی مقدار کے لین دین فوری طور پر نپٹائے جا سکتے ہیں۔
سیانٹرل سیکیورٹیز ڈیپوزیٹری (CSD) انٹیگریشن : سرکاری سکیورٹیز کی نیلامی، خرید و فروخت، کولیٹرل مینجمنٹ، اور اوپن مارکیٹ آپریشنز آسان بناتا ہے۔
لیکویڈیٹی مینجمنٹ اور ٹرانزیکشن کی ترجیح : مستقبل میں ادائیگیوں کی شیڈولنگ، قطار بندی اور BIased پروسیسنگ کی سہولت شامل ہے۔
لانچ پر ڈیلی 1,043 کھرب روپے سے زائد ٹرانزیکشنز پروسیس ہوئی — ہیںیہ پاکستان کے سالانہ GDP کے 10 گنا کے برابر ہے۔
ڈیجیٹل بینکاری کا عروج:
22.5 کروڑ بینک و ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس
96 ملین منفرد صارفین
28 ملین موبائل بینکنگ ایپ صارفین
71 ملین برانچ لیس بینکنگ صارفین
17 ملین انٹرنیٹ بینکنگ صارفین
یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں تیزی سے تبدیلی کا ثبوت ہیں۔
سکیورٹی اور مستقبل کی تیاری
ISO 20022 اسٹینڈرڈ کی بدولت جدید، شفاف اور محفوظ مالیاتی ٹرانزیکشنز ممکن ہوئی ہیں۔
لیکیویڈیٹی سیونگ کیوینگ، ILF، اور ریذرو الارم جیسے جدید ٹولز سسٹم کو مزید مضبوط اور موثر بناتے ہیں۔
ورلڈ بینک گروپ کی تکنیکی معاونت نے اس پروجیکٹ کو تہہ تک پہنچایا۔ SBP کے کردار کے ساتھ بینکنگ سیکٹر نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
Vision 2028 کے تحت، یہ نظام پاکستان کی مالیاتی انفراسٹرکچر کو عالمی معیاروں کے قریب لے جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے پرزم پلس نامی نیا نظام متعارف کرا دیا








