چین اگلے ماہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر بیجنگ میں ایک بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کرے گا، جس میں پہلی بار جدید ترین چینی ہتھیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کی جھلک دنیا کو دکھائی جائے گی۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، چینی فوجی حکام نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس شاندار پریڈ میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے سینکڑوں لڑاکا طیارے، بمبار، اور جدید زمینی، فضائی اور بحری ہتھیار شامل ہوں گے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ یہ پریڈ عام مظاہرے سے ہٹ کر ہوگی — اسے کچھ اس انداز میں پیش کیا جائے گا جیسے حقیقی میدانِ جنگ ہو۔ فضائیہ، بری فوج اور بحریہ تینوں افواج کی شمولیت سے ایک مربوط جنگی مشق جیسا منظر ہوگا۔
چین کے مؤقر اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق، پریڈ میں خاص طور پر چوتھی جنریشن کے جدید ہتھیار دکھائے جائیں گے جن میں جدید ٹینک، کیریئر بیسڈ جنگی طیارے اور ہتھیاروں سے لیس گاڑیاں شامل ہوں گی۔ ان تمام ہتھیاروں کو آپریشنل ماڈیولز کی شکل میں ترتیب دیا جائے گا تاکہ فوج کی اصل جنگی صلاحیت کا مظاہرہ ہو سکے۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ پریڈ میں شامل تمام ہتھیار اور سازوسامان چین میں ہی تیار کردہ، فعال (active-duty) فوجی آلات ہوں گے، جن کی یہ نمائش چینی دفاعی صنعت کی صلاحیت اور خود انحصاری کو اجاگر کرے گی۔
3 ستمبر کو منعقد ہونے والی یہ تقریب 2015 کے بعد پہلا ایسا موقع ہوگا جب چین ایک بڑی فوجی پریڈ کرے گا۔ یہ دن اُس تاریخی لمحے کی یاد میں منایا جا رہا ہے جب 1945 میں جاپانی افواج نے باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالے تھے۔
روئٹرز کے مطابق دنیا بھر کے سکیورٹی تجزیہ کار اور غیر ملکی ملٹری اتاشی اس تقریب کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، چین اس موقع پر ایسے ہتھیار بھی سامنے لا سکتا ہے جو پہلے کبھی منظرِ عام پر نہیں آئے — جیسے جدید ڈرونز، نئے ماڈل کے ٹینک، اور ایسے فوجی ٹرک جو طیارہ بردار بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے مخصوص آلات سے لیس ہوں گے۔
چین کی بڑی فوجی پریڈ: 80 سال بعد جدید ہتھیاروں کی جھلک دنیا کے سامنے آئے گی








