ایران نے اسرائیل کے ساتھ 12 روز تک جاری رہنے والی حالیہ جنگ کے بعد عالمی سطح پر اپنی عسکری موجودگی کو وسعت دیتے ہوئے کئی ممالک میں اسلحہ سازی کی فیکٹریاں قائم کر دی ہیں۔ یہ دعویٰ ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے مختلف ممالک میں اسلحہ ساز تنصیبات قائم کی ہیں، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر فی الحال ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔
ناصر زادہ کے مطابق، ایران نے حالیہ برسوں میں جدید اور موبائل ہتھیاروں کے کئی تجربات کیے ہیں جنہیں کسی بھی مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران ایران کے میزائل سسٹمز نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وہ ان تجربات کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی بحریہ نے خلیج عمان اور شمالی بحر ہند میں بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کیں، جن میں کروز میزائلوں کے کامیاب تجربات بھی شامل تھے۔ یہ مشقیں روس کے ساتھ کی جانے والی Casarex 2025 نامی مشترکہ مشقوں کے بعد منعقد ہوئیں، جو ایک ماہ قبل بحیرہ کیسپین میں ہوئی تھیں۔
ایرانی وزیر دفاع نے جنگ کی شدت پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر جنگ چند دن اور چلتی، تو اسرائیل کے پاس ایران کے میزائل حملے روکنے کی کوئی صلاحیت باقی نہ رہتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دشمن کو جنگ بندی پر مجبور کیا، اور یہ ہماری عسکری حکمت عملی کی کامیابی ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایران نے ابھی تک اپنا جدید ترین ’’قاسم بصیر‘‘ میزائل استعمال نہیں کیا، جسے مئی 2025 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے، جس کی رینج تقریباً 1200 کلومیٹر ہے اور اس میں جدید رہنمائی و دفاعی نظام شامل ہے۔
عزیز ناصر زادہ کا کہنا تھا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی دفاعی نظام، جن میں امریکی ساختہ THAAD، پیٹریاٹ بیٹریاں، آئرن ڈوم اور ایرو شامل ہیں، نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی، مگر رفتہ رفتہ ان کی مؤثریت کم ہوتی چلی گئی۔پہلے مرحلے میں ہمارے 40 فیصد میزائل روکے گئے، لیکن اختتام تک 90 فیصد میزائل اپنے ہدف تک پہنچ رہے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری کارکردگی میں بہتری آ رہی تھی، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی دفاعی نظام کمزور پڑتا جا رہا تھا۔
ایران نے خفیہ اسلحہ ساز فیکٹریاں قائم کر لیں، ایرانی وزیر دفاع








