روس میں بھارتی سفیر ونے کمارنے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جہاں سے بھی سستا تیل دستیاب ہوگا، وہ وہیں سے خریدے گا — چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔
روسی میڈیا کو انٹرویو میںبھارتی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت کی اولین ترجیح اپنی عوام کے لیے سستی اور پائیدار توانائی کا بندوبست کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے بھارت کسی ایک ملک یا بلاک کا پابند نہیں۔
امریکی پالیسی پر تنقید
سفیر ونے کمار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر لگائے جانے والے اضافی ٹیرف (محصولات) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ غیر معقول، غیر منصفانہ اور بلاجواز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف بھارت ہی نہیں، بلکہ امریکا اور یورپ کے کئی ممالک بھی روس کے ساتھ تجارتی روابط رکھے ہوئے ہیں تو پھر بھارت پر تنقید کیوں؟
روس کے ساتھ تعلقات پر زور
ونے کمار نے بھارت اور روس کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی تجارت دو طرفہ اعتماد اور باہمی مفادات پر مبنی ہے، اور بھارتی حکومت آئندہ بھی اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی رہے گی۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف نافذ ہونے میں صرف دو دن باقی ہیں — جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
جہاں سے سستا تیل ملے گا، وہیں سے خریدیں گے ، روس میں بھارتی سفیر کا مؤقف








