تل ابیب: اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے پہلی بار غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حماس کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے، اور حکومت کو پیش کیے گئے مجوزہ امن معاہدے کو قبول کر لینا چاہیے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایال زمیر نے حیفا کے ایک بحری اڈے کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو جنگ بندی کے لیے سازگار ہیں۔ انہوں نے اسٹیو وٹکوف کے پیش کردہ فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک واضح معاہدہ موجود ہے، اور اب فیصلہ وزیراعظم نیتن یاہو کو کرنا ہے۔
آرمی چیف نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج غزہ شہر پر مکمل قبضے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے زیر حراست یرغمالیوں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ فلسطینی تنظیم حماس پہلے ہی اس جنگ بندی معاہدے کو منظور کر چکی ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس، حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکومت نے غزہ شہر پر قابض ہونے کے لیے فوجی آپریشن کی منظوری دی، جس کے بعد اسرائیلی حملوں میں شدت آ چکی ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف بھی جنگ بندی کے حامی، معاہدے کی منظوری کا مشورہ دے دیا








